متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والی نڈر ڈاکٹر ظہیرہ سومر نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اسرائیلی محاصرے کے باوجود غزہ کے قریب پہنچنے والی چند امدادی کشتیوں میں شامل ہو کر دنیا کو حیران کر دیا ہے۔

خلیج ٹائمز کے مطابق ڈاکٹر ظہیرہ نے بتایا کہ اسرائیلی بحریہ کی سخت نگرانی کے باوجود ان کی کشتی بحفاظت غزہ کی جانب بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ  ہم نہ صرف محفوظ ہیں بلکہ عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، کیونکہ یہ مشن صرف امداد نہیں بلکہ انسانیت کا فریضہ ہے۔

ذرائع کے مطابق 40 سے زائد امدادی کشتیوں پر مشتمل فلوٹیلا کو اسرائیلی فورسز نے گزشتہ دنوں گھیر لیا تھا، تاہم چند جہاز اسرائیلی گرفت سے نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ان میں وہ کشتی بھی شامل ہے جس پر ڈاکٹر ظہیرہ سوار تھیں۔

انہوں نے بدھ کی صبح تقریباً 4 بجے ایک پوسٹ میں بتایا تھا کہ ایک اسرائیلی جنگی جہاز ان کے قریب آیا اور کچھ لمحوں کے لیے ایسا محسوس ہوا جیسے انہیں اپنے فون سمندر میں پھینکنے پڑیں گے، لیکن وہ کسی طرح اسرائیلی کشتی کو چکمہ دینے میں کامیاب ہوگئے۔

فلوٹیلا کے آفیشل اکاؤنٹ کے مطابق اسرائیلی بحریہ اب تک کم از کم 13 امدادی کشتیوں کو روک چکی ہے جن میں الما، ادرا، اسپیکٹر، اورورا، دیر یاسین، ہوگا اور یولارا شامل ہیں۔

ان جہازوں پر حملے کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں، جن میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی فوجی واٹر کینن سے کارکنوں پر حملہ کر رہے ہیں اور کشتیوں پر زبردستی چڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر ظہیرہ سومر 3 بچوں کی ماں ہیں اور وہ کہتی ہیں کہ اس مشن میں شامل ہونا ان کے لیے ایک  ذمہ داری اور دل کی پکار تھا۔ انہوں نے روانگی سے قبل اپنی وصیت بھی لکھ دی تھی تاکہ اگر کچھ ہوجائے تو ان کے بچے جان لیں کہ ان کی والدہ نے انسانیت کے لیے قدم اٹھایا تھا۔

انہوں نے کہا کہ  غزہ کے مظلوموں کے لیے یہ قربانی کوئی بڑی بات نہیں، اصل امتحان ان کا ہے جو ملبے کے نیچے بھی زندگی تلاش کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ گلوبل صمود فلوٹیلا مجموعی طور پر 45 جہازوں اور 497 رضاکاروں پر مشتمل ہے جن کا تعلق 46 ممالک سے ہے۔ ان تمام کا مقصد غزہ کے محصور عوام تک براہِ راست امداد پہنچانا اور اسرائیلی ناکہ بندی کو عالمی سطح پر چیلنج کرنا ہے۔

2010ء  میں بھی اسرائیلی افواج نے ایک امدادی فلوٹیلا پر حملہ کیا تھا جس میں 10 کارکن شہید ہوگئے تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: ڈاکٹر ظہیرہ انہوں نے رہے ہیں کے لیے غزہ کے

پڑھیں:

مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں

پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال کے شوہر حمزہ حبیب کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ پاکستان کے مقبول ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی مومنہ اقبال حال ہی میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئی ہیں۔ لاہور میں ان کی دعائے خیر ، مہندی ، مایوں اور نکاح کی تقریبات منعقد ہو چکی ہیں جن کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مومنہ اقبال کے دلہا حمزہ حبیب کا تعلق لاہور سے ہے، وہ کامیاب اور مالی طور پر مستحکم کاروباری شخصیت ہیں تاہم وہ ہمیشہ میڈیا کی نظروں سے دور رہے۔ حالیہ دنوں میں مومنہ اقبال کو (ن ) لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے مبینہ ہراسانی اور دھمکیوں کے معاملے پر حمزہ حبیب اپنی اہلیہ کی حمایت میں سامنے آنے کے بعد خبروں کا مرکز بن گئے۔ حمزہ حبیب کے مطابق ان کی اور مومنہ اقبال کی منگنی خاندانوں کی باہمی رضامندی سے ہوئی جب کہ دونوں خاندانوں کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات بھی ہیں۔ جوڑے نے مئی 2026 کے آخر میں ایک نجی تقریب میں نکاح کیا تھا۔ اس سے قبل اداکارہ مومنہ اقبال نے اپنی سوشل میڈیا سٹوری کے ذریعے انکشاف کیا تھا کہ ایک بااثر سیاسی شخصیت کی جانب سے انہیں اور ان کی فیملی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ جس پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی اپنی تحقیقات کررہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں