ن ،ش، م کو تقسیم کرنے والے ناکام،ہمیشہ منہ کی کھائیں گے، وزیراعلی پنجاب
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
ن ،ش، م کو تقسیم کرنے والے ناکام،ہمیشہ منہ کی کھائیں گے، وزیراعلی پنجاب WhatsAppFacebookTwitter 0 8 October, 2025 سب نیوز
لاہور (آئی پی ایس )وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ چھوٹے شہروں کی ترقی ہماری اولین ترجیح ہے جب کہ پنجاب بھر میں دسمبر تک 1500 گرین بسیں دوڑ رہی ہوں گی۔پاکپتن میں الیکٹرک بسوں کی فراہمی کے منصوبے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ ستھرا پنجاب پروگرام میری توقعات سے کہیں بڑھ چکا ہے، اس کے تحت پورے صوبے میں صفائی، سیوریج، صاف پانی اور پبلک ٹرانسپورٹ کے انقلابی منصوبے جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکپتن پہلے سے زیادہ صاف ستھرا اور سرسبز نظر آ رہا ہے اور اب پنجاب کے چھوٹے شہروں کو بھی بڑے شہروں کی طرح خوبصورت اور ترقی یافتہ بنایا جا رہا ہے۔مریم نواز نے کہا کہ میری زیادہ توجہ چھوٹے شہروں پر ہے، کیونکہ وہاں عوام ان سہولتوں کے زیادہ حقدار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ستھرا پنجاب پروگرام کے لیے 35 ہزار مشینیں خریدی جا چکی ہیں اور اب صوبے بھر میں صفائی کے کام بلاتفریق جاری ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ الیکٹرک بسوں میں ایئرکنڈیشن، فری وائی فائی اور خواتین کے لیے علیحدہ جگہ کی سہولت موجود ہے تاکہ انہیں دوران سفر کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے پبلک ٹرانسپورٹ صرف لاہور، راولپنڈی، ملتان اور بہاولپور تک محدود تھی، لیکن اب 1100 نئی گرین بسیں پنجاب کے ہر شہر میں صرف 20 روپے میں سفر کی سہولت فراہم کریں گی۔مریم نواز نے بتایا کہ دسمبر تک 1500 بسیں سڑکوں پر دوڑ رہی ہوں گی اور اس کے بعد اپریل اور مئی میں 500 مزید بسیں سڑکوں پر آجائیں گی۔ وزیراعلی نے ضلعی افسران کو ہدایت دی کہ 3 ماہ میں تمام روٹس پر بس اسٹاپس بنائے جائیں تاکہ عوام آرام سے انتظار کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب ڈیولپمنٹ پلان کے تحت جہاں سیوریج نظام بند یا خراب ہے، وہاں نئی لائنیں بچھائی جا رہی ہیں۔ زیر زمین پانی کے ذخائر بھی بنائے جا رہے ہیں تاکہ بارشوں کے دوران شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ وزیراعلی کے مطابق واسا اب صرف لاہور یا چند شہروں تک محدود نہیں بلکہ 25 شہروں میں مکمل آپریشنل ہے
، جہاں بارش کے چند گھنٹوں میں پانی نکال دیا جاتا ہے۔مریم نواز نے کہا کہ ہم ہر گاں میں 25 کلومیٹر سڑکیں بنا رہے ہیں، گزشتہ سال 20 ہزار کلومیٹر سڑکیں مکمل ہوئیں اور اس سال یہ دائرہ مزید بڑھایا جا رہا ہے تاکہ گاں شہروں سے جڑ جائیں۔وزیراعلی پنجاب نے اپنی چھت اپنا گھر اسکیم کے حوالے سے بتایا کہ صرف سات سے آٹھ ماہ میں 90 ہزار گھروں کی تعمیر جاری ہے اور اگلے پانچ سالوں میں پانچ سے سات لاکھ خاندانوں کو اپنا گھر دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 14 لاکھ خاندانوں کو راشن کارڈز جاری کیے جا چکے ہیں جنہیں تین ہزار روپے ماہانہ دیے جا رہے ہیں۔صحت کے شعبے سے متعلق مریم نواز نے بتایا کہ ساہیوال کارڈیالوجی سینٹر میں کیتھ لیب قائم ہوچکی ہے، سرگودھا میں بھی علاج کی جدید سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ لاہور میں 1000 بستروں پر مشتمل دنیا کا سب سے بڑا کینسر اسپتال تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔انہوں نے کہا کہ پورے پنجاب سے نادار مریضوں کا مفت علاج کیا جائے گا،
جس کے لیے پانچ ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ راولپنڈی، ملتان اور نواز شریف کینسر اسپتال کے لیے بھی جدید مشینری منگوائی جا رہی ہے۔وزیراعلی نے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ چند ماہ میں پنجاب کے 25 اضلاع زیرو کرائم زون بن چکے ہیں، اب خواتین، بچیاں اور مائیں بلا خوف باہر نکل سکتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کسان کارڈ کے تحت ہر فصل کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپے تک بلاسود قرض فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ کھاد پر تاریخی سبسڈی بھی کا پلان بنا رہے ہیں۔ تمام پروگرام خواہ چاہے وہ ستھرا پنجاب ہو، صاف پانی، کسان کارڈ یا ٹریکٹر ، پورے صوبے کے لیے بلاتفریق جاری ہیں۔سیلاب متاثرین سے متعلق مریم نواز نے کہا کہ تاریخ کے بدترین سیلاب میں حکومت نے ڈھائی ملین افراد اور دو ملین مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا اور بارہ لاکھ سے زائد متاثرین کو علاج اور ادویات فراہم کی گئیں۔خطاب کے آخر میں وزیراعلی نے مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ ن، م، ش کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ن م ش سیسہ پلائی دیوار کی طرح متحد ہیں۔ ایسے لوگ ہمیشہ کی طرح انجام کو پہنچیں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبریومِ یکجہتی و قربانی: 8 اکتوبر 2005 – ایک عظیم آزمائش اور عظیم اتحاد کی داستان عمران خان نے علی امین گنڈاپور کو وزیراعلیٰ کے عہدے سے ہٹانے کے احکامات جاری کردیے الیکشن کمیشن نے اراکین پارلیمنٹ و اسمبلیوں کے اثاثوں کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری مقرر کر دی علیمہ خان کے وارنٹِ گرفتاری، پولیس اڈیالہ جیل پہنچ گئی کشمیر میں معاملات خوش اسلوبی سے حل ہوئے، کشمیری عوام کے تمام تحفظات کو دور کیا جائےگا، وزیرِ اعظم سعودی عرب سے ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری، اعلیٰ سطحی کاروباری وفد پاکستان پہنچ گیا آزاد کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوار الحق کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مریم نواز نے کہا وزیراعلی پنجاب انہوں نے کہا کہ نے بتایا کہ رہے ہیں کے لیے رہا ہے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔