خواتین میں ڈپریشن کی شرح زیادہ کیوں؟ ماہرین نے بڑی وجہ بتادی
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈپریشن ایک ایسا ذہنی مرض ہے جو موجودہ دور میں ہر عمر اور طبقے کے افراد کو متاثر کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ عارضہ نہ صرف ذہنی بلکہ جسمانی طور پر بھی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے، کیونکہ اس کے شکار افراد میں توانائی کی کمی، نیند میں خلل اور دل کی بیماریوں جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ خواتین میں ڈپریشن کا جینیاتی خطرہ مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ جرنل نیچر کمیونیکیشن میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق خواتین میں ایسے 16 جینیاتی ورژن پائے گئے جو ڈپریشن سے منسلک ہیں، جبکہ مردوں میں یہ تعداد صرف 8 ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ خواتین کو یہ ذہنی مرض مخصوص جینیاتی عناصر کی وجہ سے زیادہ متاثر کرتا ہے۔
آسٹریلیا، نیدرلینڈز، امریکا اور برطانیہ میں ہونے والی پانچ تحقیقی رپورٹس کے ڈی این اے ڈیٹا کے تجزیے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ڈپریشن اور جسمانی وزن یا میٹابولک اثرات کے درمیان خواتین میں ایک مضبوط جینیاتی تعلق پایا جاتا ہے۔ اسی بنا پر خواتین کو جسمانی وزن میں تبدیلی یا ہارمونل اتار چڑھاؤ کے دوران ڈپریشن کا سامنا زیادہ ہوتا ہے۔
ماہرین نے مزید کہا کہ اگرچہ ماحولیاتی عوامل اور طرزِ زندگی بھی اس بیماری میں کردار ادا کرتے ہیں، مگر جینیاتی فرق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈپریشن کو محض دماغی مسئلہ نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ یہ پورے جسم پر اثر انداز ہوتا ہے اور اس کے علاج کے لیے جامع حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خواتین میں ہوتا ہے
پڑھیں:
ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟
خلیج فارس میں واقع ایران کا قشم جزیرہ، جو کبھی آزاد تجارتی زون اور سیاحتی مرکز کے طور پر جانا جاتا تھا، اب خطے میں ایران کی اہم ترین عسکری تنصیبات میں شمار ہوتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے دہانے پر واقع یہ جزیرہ اپنی جغرافیائی اہمیت، زیرِ زمین فوجی نیٹ ورکس اور میزائل تنصیبات کے باعث امریکی فوج کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق قشم جزیرہ نہ صرف ایران کی دفاعی حکمتِ عملی کا کلیدی حصہ ہے بلکہ عالمی توانائی کی ترسیل پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
تقریباً 1,445 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا قشم خلیج فارس کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہ، آبنائے ہرمز، کے داخلی راستے پر واقع ہے۔ یہی محلِ وقوع اسے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔
جزیرے کی منفرد جغرافیائی ساخت اور مضبوط دفاعی انفراسٹرکچر اسے امریکی فوج کے لیے ایک اہم ہدف بناتے ہیں۔
زیرِ زمین عسکری نیٹ ورکقشم جزیرے کو ایران کے لیے ایک ایسے ’ناقابلِ غرق طیارہ بردار بحری جہاز‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو مستقل طور پر خلیجی پانیوں میں موجود ہے۔ جزیرے کے نیچے پھیلے ہوئے سرنگی نظام اور پیچیدہ نمکانی غاروں میں ساحلی دفاعی میزائل تنصیبات اور تیز رفتار جنگی کشتیوں کے اڈے قائم کیے گئے ہیں۔
ان خفیہ تنصیبات کے باعث ایران اپنی عسکری صلاحیتوں کو فضائی یا بحری حملوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
زیرِ زمین ’میزائل سٹیز‘ایران نے قشم جزیرے کے اندر ساحلی جنگی حکمتِ عملی کے لیے خصوصی میزائل تنصیبات قائم کر رکھی ہیں، جنہیں عموماً ’میزائل سٹیز‘ کہا جاتا ہے۔
ان کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بین الاقوامی بحری آمدورفت پر نظر رکھنا اور ضرورت پڑنے پر اسے محدود یا معطل کرنے کی صلاحیت برقرار رکھنا ہے۔
عالمی توانائی کی گزرگاہ پر اثر و رسوخآبنائے ہرمز دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ سمجھی جاتی ہے۔ ماضی میں ایران قشم جزیرے کو استعمال کرتے ہوئے اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بعض تیل بردار اور گیس بردار جہازوں کی نقل و حرکت محدود یا متاثر کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کر چکا ہے۔
اسی وجہ سے امریکی فوج قشم کو جاری توانائی اور بحری سلامتی کی کشمکش کا مرکزی اعصابی مرکز تصور کرتی ہے۔ واشنگٹن کے نزدیک اگر ایران اس جزیرے کے ذریعے آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے تو اس کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
ایران امریکا کشیدگی کا اگلا محاذقشم جزیرہ حالیہ برسوں میں ایران اور امریکا کے درمیان فوجی کشیدگی کا ایک اہم مرکز بھی بن گیا ہے۔
ماضی میں جب ایران نے خطے میں امریکی تنصیبات یا مفادات کو نشانہ بنایا تو امریکی فوج نے جواباً قشم جزیرے پر موجود پاسدارانِ انقلاب کی پوزیشنوں اور مواصلاتی ڈھانچے پر محدود نوعیت کے حملے کیے۔
امریکی مؤقف کے مطابق ایسی کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو متاثر یا معطل کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قشم جزیرہ اپنی جغرافیائی اہمیت، عسکری تنصیبات اور آبنائے ہرمز پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کے باعث مستقبل میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا ایک اہم مرکز بنا رہ سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایران کا قشم جزیرہ