Jasarat News:
2026-07-24@01:53:06 GMT

ٹرمپ، نیتن یاہو اور مسلم دنیا

اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

یہ بات پہلے بھی کہی جاتی رہی ہے کہ مسلم دنیا اور بالخصوص عرب ممالک کا بڑا سیاسی انحصار امریکا پر رہا ہے اور عرب دنیا کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کے دفاع میں امریکا بنیادی کردار ادا کرسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم دنیا میں امریکا کی مخالفت اور مسلم حکمرانوں میں امریکا سے محبت دیکھنے کو ملتی ہے۔ امریکا کی جانب سے فلسطین، غزہ اور اسرائیل کے تناظر میں پیش کردہ اکیس نکاتی امن معاہدہ بنیادی طور پر ایسا لگتا ہے کہ مسلم دنیا امریکا اور اسرائیل کے ہاتھوں سیاسی طور پر ٹریپ ہوئی ہے۔ یہ امن معاہدہ مسلم ممالک ومسلم حکمرانوں کے ساتھ ایک سنگین مذاق لگتا ہے۔ اگرچہ پاکستان کے بقول یہ امن معاہدہ وہ نہیں ہے جو چھے اسلامی ممالک کے سربراہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کے سامنے پیش کیا تھا۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے بقول پیش کردہ معاہدے میں ایسی ترامیم کی گئی ہیں جو ہمیں قبول نہیں۔ جبکہ امریکی صدر کا موقف ہے کہ اسی معاہدے پر اسلامی ممالک کے سربراہوں نے دستخط کیے تھے۔ سوال یہ ہے کہ اگر واقعی امریکا نے چھے اسلامی ممالک کے سربراہان کی ملاقات میں طے ہونے والے امن معاہدے سے انحراف کیا یا اس میں ان کو اعتماد میں لیے بغیر تبدیلیاں کی گئی ہیں تو اس پر پاکستان سمیت ان اسلامی ممالک کے سربراہان نے امریکا کے ساتھ بھرپور احتجاج کیوں نہیں کیا اور کیوں نہیں کہا کہ ہمیں اعتماد میں لیے بغیر اس معاہدے میں تبدیلی کرکے امریکا نے اعتماد سازی کو نقصان پہنچایا۔ اس کے برعکس ماشاء اللہ مسلم حکمران بشمول پاکستان امریکا اور ٹرمپ کی حمایت میں پیش پیش ہیں اور پاکستان نے تو ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے بھی نامزد کیا ہے۔ تاثر یہ دیا جارہا ہے کہ امریکا مسلم ممالک کے لیے مثبت جذبات رکھتا ہے اور غزہ میں امن لانا اس کی اہم ترجیحات کا حصہ ہے۔ اس امن معاہدے پر اسلام آباد اور لاہور میں بڑے بڑے پوسٹرز پر پاکستان کے حکمران اور سیاسی طاقت ور شخصیات نے ٹرمپ کی تصاویر لگا کر امریکا سے محبت کا بھرپور ثبوت دیا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ مسلم حکمرانوں امریکا پر کس حد تک سیاسی انحصار کرتے ہیں۔ انہی مسلم حکمرانوں بشمول پاکستان نے غزہ میں ہونے والے اسرائیلی مظالم پر ایک لفظ کی مذمت بھی امریکا کی طرف سے نہیں کہلوائی بلکہ امریکا کے بقول اگر اس امن معاہدے کو حماس نے قبول نہ کیا تو وہ ہر صورت میں اسرائیل کی پشت پر کھڑا ہوگا۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ امن معاہدہ بنیادی طور پر امریکا اور اسرائیل کا باہمی گٹھ جوڑ ہے اور اس میں ان دونوں ملکوں کا اپنا ایجنڈا بشمول گریٹر اسرائیل اور مسلم ممالک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنا ہے۔ یہ کیسا معاہدہ ہے جس میں فلسطین کا کنٹرول امریکا کی سرپرستی میں چلے گا اور جب امریکا کہا جاتا ہے تو ہمیں امریکا اور اسرائیل کے باہمی تعلق کو بنیاد بنا کر حالات کا تجزیہ کرنا چاہیے۔ اسرائیل کے غزہ سے مکمل انخلا پر یہ معاہدہ خاموش ہے اور حماس نے اس معاہدے کی چند بڑی شرائط کو تسلیم کرکے اس کی حمایت ضرور کی ہے لیکن حماس نے کمال ہوشیاری سے امریکا کے اس معاہدے کی حمایت کرکے اس تاثر کی نفی کردی کہ حماس مسائل کا حل بات چیت سے کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔ لیکن حماس نے ایک طرف اس معاہدے کی حمایت کی ہے تو دوسری طرف کھل کر غزہ سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا اور دوسری جانب فلسطین کا کنٹرول کسی غیر ملکی قوت کے مقابلے میں فلسطین کی نامزدہ کردہ کمیٹی کے سپرد کرنے کا اعلان کیا ہے جو یقینی طور پر امریکا کے لیے قابل قبول نہیں ہوگا۔ اگرچہ اس امن معاہدے کے باوجود ابھی تک اسرائیلی فوج غزہ پر مسلسل حملے کررہی ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ امن کے لیے کس حد تک سنجیدہ ہیں۔ دوسری جانب یہ خبریں بھی چل رہی ہیں کہ مسلم ممالک پر بڑا دبائو ہے کہ وہ اسرائیل کو قبول کریں اور پاکستان میں کچھ لوگ اسرائیل کی حمایت میں سامنے بھی آگئے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ اگر سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرتا ہے تو ہمارے پاس بھی اس کو قبول کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہوگا۔ یہ خبریں بھی موجود ہیں کہ اس امن معاہدہ میں مسلم ممالک کے حکمرانوں کے بغیر جو تبدیلیاں کی گئی ہیں اس میں اسرائیل کے نقاط کو اہمیت دی گئی اور اسی بنیاد پر امن معاہدے میں ترمیم سامنے آئی ہیں۔ اگر یہ بات درست ہے تو مسلم حکمرانوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ امریکا مسلم دنیا کے ساتھ نہیں بلکہ اسرائیل کے ساتھ کل بھی کھڑا تھا اور آج بھی کھڑا ہے۔ یہ جو اسرائیلی وزیر اعظم نے قطر کے سربراہ سے قطر پر حملے کی معافی مانگی ہے یہ بھی امریکی صدر کی مسلم ممالک کے حکمرانوں کی حمایت کے حصول کی حکمت عملی نظر آتی ہے۔ مسلم دنیا یہ سوال کیونکر امریکا سے نہیں پوچھ رہی کہ کیوں اسرائیل کے ایما پر امن معاہدے میں ردوبدل کیا گیا اور کیونکر اس امن معاہدہ کے اعلان سے قبل فلسطینی قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس امن معاہدے سے امریکا اور اسرائیل کے سیاسی مقاصد مسلم دنیا سے مختلف ہیں اور اس کو چھپایا جارہا ہے۔ ایک طرف حماس کو غیر مسلح کرنا امریکا کی ترجیحات کا حصہ ہے تو دوسری طرف ایک بے لگام گھوڑے کی طرح اسرائیل کو سب کچھ کرنے اور غزہ میں مظالم ڈھانے کی مکمل آزادی ہے اور اس پر مسلم دنیا کی خاموشی مجرمانہ غفلت یا ذاتی مفادات کی سیاست سے جڑی نظر آتی ہے۔ اگر حماس اور الفتح اس امن منصوبے کو مکمل طور پر قبول نہیں کرتے تو پھر اس امن معاہدے کی کیا حیثیت باقی رہ جائے گی اور قبول نہ کرنے کی صورت میں امریکا کی جانب سے کھلم کھلا دھمکی کو مسلم ممالک نے کیونکر سنجیدگی سے نہیں لیا گیا اور اگر اسی طرز پر امریکا کی دھمکیاں چلنی ہیں تو پھر اس امن معاہدے کی کامیابی کی کوئی ضمانت نظر نہیں آتی۔ یہ جو مسلم دنیا میں امریکا کے لیے اندھی محبت میں مزید شدت آئی ہے اس کا یقینا تجزیہ ہونا چاہیے کہ یہ سب کچھ کیونکر ہورہا ہے اور کن شرائط پر ہورہا ہے اور اس سارے عمل سے مسلم ممالک اور بالخصوص غزہ میں ہونے والے اہم اقدامات سے مسلم دنیا کو کیا فائدہ ہوگا۔ اسی طرح یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا امریکا حماس کے اس مطالبے کو تسلیم کرے گا کہ غزہ کا انتظام فلسطینی کمیٹی کو دیا جائے اور کیا اسرائیل اس فیصلے پر امریکا کے ساتھ کھڑا ہوگا اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو ہم اس معاہدے کے لیے پھر کہاں کھڑے ہوں گے۔ یہ بھی لگتا ہے کہ خود حماس کو اندازہ ہے کہ ان تمام معاملات میں خود امریکا کس حد تک سنجیدہ ہے لیکن اس نے مذاکرات کے نام پر امریکا کو بات چیت کے عمل میں شامل کرکے خاصہ وقت لیا ہے جو خود حماس کے حق میں ہوگا۔ مسلم ممالک جو بھی فیصلہ کریں اسے ایک بڑے تناظر میں دیکھنا چاہیے کہ مسلم دنیا میں امریکا سمیت ان بڑی طاقتوں کے خلاف جو تحفظات پائے جاتے ہیں ان کا اظہار بھی اس طرز کے امن معاہدے میں سامنے آنا چاہیے۔ مسلم ممالک کے سربراہ ضرور امریکا کے ساتھ کھڑے ہوں مگر ان کے سامنے اصل ترجیح مسلم دنیا کے مفادات اور امن کی مکمل ضمانت کے ساتھ مشروط ہونا چاہیے وگرنہ اس طرز کے امن معاہدے سے مسلم دنیا میں جہاں امریکا کے خلاف ردعمل ہوگا وہیں مسلم حکمرانوں کے خلاف بھی اس کا ردعمل دیکھا جائے گا۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امریکا اور اسرائیل اسلامی ممالک کے اور اسرائیل کے اس امن معاہدے مسلم دنیا میں مسلم ممالک کے کہ مسلم دنیا معاہدے میں میں امریکا اسرائیل کو امن معاہدہ ہے کہ مسلم امریکا کی اس معاہدے امریکا کے معاہدے کی پر امریکا کو تسلیم کی حمایت کے ساتھ لگتا ہے کے لیے ہے اور ہیں کہ

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل