نیشنل گیمز:سندھ آرچری ٹیموں کی تشکیل کے لئے ٹرائلز کااعلان
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسپورٹس رپورٹر)سندھ آرچری ایسوسی ایشن نے نیشنل گیمز میں شرکت کرنے والی سندھ کی مینز اور ویمنزآرچری ٹیموں کی تشکیل کے سلسلے میں ٹرائلز کا اعلان کر دیا ہے۔70میٹرز اور72ایروز پر مشتمل ٹرائلز 10اکتوبر بروز جمعہ صبح ساڑھے دس بجے سے سہ پہرساڑھے تین بجے تک پبلک اسکول حیدرآباد لطیف آباد میں منعقد کئے جائیں گے۔اس ضمن میں سندھ آرچری ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل سید اعجاز علی کی جانب سے جاری کردہ ڈائرکٹو میں اندرون سندھ سے منسلک حیدرآبادآرچری ایسوسی ایشن،میر پور خاص آرچری ایسوسی ایشن،شہید بے نظیر آبادآرچری ایسوسی ایشن،سکھرآرچری ایسوسی ایشن اور لاڑکانہ ڈویڑن آرچری ایسوسی ایشن کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ شیڈول ٹرائلز میں اپنے بہترین مرداوربہترین خواتین تیر اندازوں کو شرکت کے لئے نامزد کریں،جن کے ساتھ ایک آفیشل بھی موجود ہوگا۔ٹرائلز میں شرکت کرنے والے تیر اندازوں اور آفیشل کے نام اور تفصیلات کنفرم کرنے کی آخری تاریخ 9اکتوبر مقرر کی گئی ہے۔ان ٹرائلز کا انعقادسندھ اولمپک ایسوسی ایشن کی ہدایات کی روشنی میں کیاجا رہا ہے۔نیشنل گیمز دسمبر میں کراچی میں منعقد ہونگے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا رچری ایسوسی ایشن
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔