اقوامِ متحدہ میں مالی بحران کے باعث امن فوج میں بڑی کمی کا فیصلہ، 9 ممالک متاثر ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
اقوامِ متحدہ نے اعلان کیا ہے کہ مالی مسائل کے باعث دنیا کے مختلف ممالک میں تعینات امن فوجیوں (پیس کیپرز) اور پولیس اہلکاروں کی تعداد میں 25 فیصد کمی کی جائے گی۔ یہ فیصلہ امریکا کی جانب سے امداد کی فراہمی غیر یقینی ہونے پر تنظیم کو شدید فنڈز کی کمی کے باعث کیا گیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ ’ہمیں تقریباً 13 سے 14 ہزار امن فوجی، پولیس اہلکار اور ان کا ساز و سامان واپس بلانا پڑے گا، جبکہ بہت سے سول ملازمین بھی متاثر ہوں گے۔‘
یہ کمی ان ممالک میں ہوگی جہاں اقوامِ متحدہ کے امن مشنز جاری ہیں، جن میں جنوبی سوڈان، جمہوریہ کانگو، لبنان، کوسوو، قبرص، وسطی افریقہ، مغربی صحارا، گولان کی پہاڑیاں (اسرائیل اور شام کے درمیان) اور ابیئی (سوڈان اور جنوبی سوڈان کے درمیان علاقہ) شامل ہیں۔
امریکا اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کا سب سے بڑا مالی مددگار ہے جو 26 فیصد سے زیادہ فنڈز فراہم کرتا ہے، لیکن اس نے گزشتہ سالوں کئی ادائیگیاں وقت پر نہیں کیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکا پر اس وقت اقوامِ متحدہ کے 2.
امریکی حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ جلد ہی 680 ملین ڈالر ادا کرے گی، مگر اس پر تاحال کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگست میں 2024 اور 2025 کے لیے مختص 800 ملین ڈالر کی امن مشنز فنڈنگ منسوخ کر دی تھی۔ وائٹ ہاؤس نے 2026 کے لیے فنڈز ختم کرنے کی بھی تجویز دی ہے، جس کی وجہ کچھ امن مشنز کی ناکامی کو بتایا جا رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ تنظیم اپنے اخراجات میں کمی اور کارکردگی میں بہتری کے لیے اقدامات کر رہی ہے تاکہ مالی بحران کے باوجود امن کے مشنز جاری رہ سکیں۔
عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ بحران جاری رہا تو اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کمزور ہو جائیں گے اور دنیا بھر میں تنازعات کے حل میں ادارے کا کردار متاثر ہو سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: متحدہ کے
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔