اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی گو کا دائرہ کار بڑھا دیا، پاکستان سمیت ایشیا کے 17 ممالک میں دستیابی
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی معروف کمپنی اوپن اے آئی نے اپنا کم قیمت سبسکرپشن پلان چیٹ جی پی ٹی گو پاکستان سمیت ایشیا کے مزید 16 ممالک میں متعارف کرا دیا ہے۔ یہ اعلان کمپنی کے سربراہ سیم آلٹ مین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر کرتے ہوئے کیا۔
سیم آلٹ مین نے کہا کہ صارفین کی جانب سے طویل عرصے سے یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ چیٹ جی پی ٹی کو زیادہ سستا اور قابلِ رسائی بنایا جائے۔ اسی مقصد کے تحت کمپنی نے ابتدا میں چیٹ جی پی ٹی گو کو بھارت اور انڈونیشیا میں متعارف کرایا تھا، جس کے مثبت ردعمل کے بعد اب اسے پاکستان، افغانستان، بنگلادیش، بھوٹان، برونائی، کمبوڈیا، لاؤس، ملائیشیا، مالدیپ، میانمار، نیپال، فلپائن، سری لنکا، مشرقی تیمور اور ویتنام تک وسعت دے دی گئی ہے۔
کمپنی کے مطابق اس نئے سبسکرپشن پلان کا بنیادی مقصد صارفین کو کمپنی کے تازہ ترین ماڈل جی پی ٹی 5 تک رسائی فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ بہتر فیچرز، زیادہ رفتار اور وسیع تر ٹولز سے استفادہ کرسکیں۔
چیٹ جی پی ٹی گو میں مفت ورژن کے تمام بنیادی فیچرز کے ساتھ اضافی سہولتیں بھی شامل کی گئی ہیں، جن میں زیادہ تعداد میں تصاویر تیار کرنے کی صلاحیت، فائل اپ لوڈز، ایڈوانسڈ ڈیٹا اینالیسز اور دیگر جدید فیچرز شامل ہیں۔ کمپنی نے واضح کیا کہ مفت ورژن کے مقابلے میں چیٹ جی پی ٹی گو کے صارفین کو چَیٹ لمٹ اور ٹولز کی دستیابی میں بھی زیادہ گنجائش حاصل ہوگی۔
پاکستان میں چیٹ جی پی ٹی گو کی ماہانہ فیس 1400 روپے (تقریباً 5 امریکی ڈالر) مقرر کی گئی ہے۔ اس کے برعکس کمپنی کے دیگر پلانز میں چیٹ جی پی ٹی پلس کی فیس 5700 روپے، چیٹ جی پی ٹی پرو کی 49 ہزار 900 روپے اور بزنس پلان کی 8499 روپے مقرر ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، 2022 میں متعارف ہونے کے بعد سے چیٹ جی پی ٹی کا عالمی استعمال غیر معمولی حد تک بڑھ چکا ہے، اور اس کے ماہانہ فعال صارفین کی تعداد 80 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ اوپن اے آئی کے مطابق مئی 2025 تک کم آمدنی والے ممالک میں اے آئی چیٹ بوٹ کے استعمال کی شرح ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں چار گنا زیادہ دیکھی گئی۔
یہ اقدام بظاہر اوپن اے آئی کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ مصنوعی ذہانت کے استعمال کو دنیا بھر کے عام صارفین تک پہنچانا چاہتی ہے، تاکہ ٹیکنالوجی کی مساوی رسائی ممکن ہو سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں چیٹ جی پی ٹی اوپن اے ا ئی کمپنی کے
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔