جماعت اسلامی نے کراچی والوں کو سہانے خواب دکھائے اور وفا نہیں کیے، مرتضی وہاب
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
تقریب سے خطاب میں میئر کراچی کا کہنا تھا کہ ہم حافظ نعیم الرحمن کی یونین کونسل میں بھی 2 لاکھ 35 ہزار اسکوائر فٹ سڑک تعمیر کر رہے ہیں، ساتھ ہی 1.1 کلومیٹر نالے کی تعمیر بھی کی جا رہی ہے، شہر کے انفرا اسٹرکچر کی بہتری کے لیے 28 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ میئر کراچی مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی نے کراچی والوں کو سہانے خواب تو دکھائے مگر وفا نہیں کی ۔ضلع وسطی کے علاقے ناگن چورنگی صدیق اکبر روڈ پر مختلف ترقیاتی اسکیموں کے سنگِ بنیاد کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ وہ اس وقت ضلعی قیادت کے ہمراہ جماعت اسلامی کے زیرانتظام ٹاؤن میں موجود ہیں جہاں سڑکوں کی خستہ حالی عوام کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ علاقہ پیپلز پارٹی کا نہیں بلکہ جماعت اسلامی کے باوضو احتجاجی کارکنوں کا ہے، جو کام کرنے کے بجائے لوگوں کی مشکلات بڑھاتے ہیں۔ مرتضی وہاب نے کہا کہ پیپلز پارٹی بلاتفریق عوام کی خدمت پر یقین رکھتی ہے، بلاول بھٹو زرداری کے ویژن کے مطابق ہر ضلع اور ٹاؤن میں پارٹی کے جیالے عوامی خدمت میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمی کراچی کے ماتحت 106 شاہراہوں کی مرمت و بحالی کا کام جاری ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کے ایم سی عوامی خدمت کے لیے سرگرم عمل ہے۔
میئر کراچی نے کہا کہ نیوکراچی سمیت تمام علاقے کراچی والوں کے ہیں، کسی سیاسی جماعت کے نہیں، جماعت اسلامی احتجاج اور بینرز لگانے میں مصروف ہے جب کہ پیپلز پارٹی عملی خدمت پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ایک لاکھ 65 ہزار اسکوائر فٹ روڈ کارپیٹنگ، ساڑھے 3 لاکھ مشین کارپیٹنگ اور پور بلاک لگانے کا کام جاری ہے۔ مرتضی وہاب نے مزید کہا کہ ہم حافظ نعیم الرحمن کی یونین کونسل میں بھی 2 لاکھ 35 ہزار اسکوائر فٹ سڑک تعمیر کر رہے ہیں، ساتھ ہی 1.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کراچی والوں میئر کراچی مرتضی وہاب نے کہا کہ انہوں نے رہے ہیں
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔