افغان سرزمین سے دہشت گردی ہو رہی ہے یہاں چند لوگ ان کی مذمت کرنے سے کتراتے ہیں، وزیردفاع
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردی ہو رہی ہے لیکن ہمارے یہاں چند لوگ ان کی مذمت کرنے سے کتراتے ہیں۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ روزانہ شہادتیں ہو رہی ہیں، ان پر بات کریں اور یک جتہی کا اظہار کریں، ہماری اپنی سیاست پر کل پرسوں یا کسی اور دن اس پر بحث کرلیں گے۔
انہوں نے کہا کہ میں افغانستان گیا اور ہم نے ان کو کہا آپ کی سرزمین سے ہمارے ملک میں دہشت گردی ہو رہی ہے، ہم نے کہا ان کی پناگاہوں کو بند کریں، انہوں نے کہا ہمیں 10 ارب دے دیں ہم انہیں مغربی صوبوں میں بساتے ہیں۔
خوجہ آصف نے کہا کہ ہماری ان کے ساتھ بار بار گفتگو ہوتی رہی، کوئی خاطر خواہ کامیابی ہمیں نہیں ملی، نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کل اور آج ہمارے بچے شہید ہوئے ہیں لہٰذا اس مسئلے پر یک زبان ہو کر اپنی افواج کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے بھارت کو جس طرح شکست دی ہے آج بھی وہ زخم چاٹ رہے ہیں، ہمیں اس ایک ایشو پر یک جہتی کا اظہار اپنے شہدا اور غازیوں کے ساتھ کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ تجویز یہ ہے کہ ایک وفد کابل جائے وہاں کے حکمرانوں سے بات کرے کہ یہ چیز ناقابل برداشت ہوچکی ہے، 60 سے 70 لاکھ لوگ ہماری سرزمین پر بیٹھے ہوئے ہیں، کوئی ٹرانسپورٹ کے کاروبار میں ہے تو کوئی ٹھیکیداری کرتا ہے اور جس تھالی میں کھا رہے ہیں اس میں چھید کر رہے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے، ہمارے یہاں پر لوگ ان کی مذمت کرنے سے کتراتے ہیں، اس پر کوئی سیاست ہم افورڈ نہیں کرسکتے، دنیا ہماری افواج کا لوہا مان رہی ہے، جن کے پاس پاور ہے ان کو کھل کر افواج، شہریوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آصف نے کہا نے کہا کہ کے ساتھ ہو رہی رہی ہے
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.
قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔