دو ریاستی فارمولہ تسلیم نہیں، انصاف کے لیے جدوجہد جاری رہے گی: مشتاق احمد
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: اہلِ غزہ کی امداد پہنچانے اور اسرائیلی محاصرہ توڑنے کے عزم کے ساتھ جانے والے سابق سینیٹر مشتاق احمد اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچ گئے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اہلِ غزہ کی امداد اور اسرائیلی محاصرہ توڑنے کے عزم کے ساتھ جانے والے سابق سینیٹر مشتاق احمد کے وطن واپسی پر اسلام آباد ایئرپورٹ پر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ سیکڑوں شہری ان کے استقبال کے لیے جمع ہوئے، جنہوں نے فلسطین کے حق میں اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ عوام نے پھول نچھاور کیے، فلسطینی پرچم بلند کیے اور مشتاق احمد کی حمایت میں پرجوش نعروں سے ایئرپورٹ کا ماحول گرما دیا۔
رپورٹ کے مطابق استقبالیہ میں خواتین، بچے اور نوجوان بڑی تعداد میں شریک تھے، جنہوں نے ہاتھوں میں بینرز اور پوسٹرز اٹھا رکھے تھے۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ مشتاق احمد کا اقدام صرف ایک علامتی مہم نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے اجتماعی موقف کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش ہے، اس جدوجہد نے عوامی شعور میں اضافہ کیا ہے اور پاکستان میں فلسطین سے یکجہتی کی نئی لہر پیدا کی ہے۔
اسلام آباد ایئرپورٹ پر عوامی خطاب میں مشتاق احمد نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ فلسطینیوں کے خون کا حساب لیں گے، دو ریاستی حل کو مسترد کرتے ہیں اور “ابراہیم اکارڈ” کو تسلیم نہیں کرتے، فلسطین صرف فلسطینیوں کا ہے اور اس کا دارالخلافہ القدس ہوگا، میں تو وصیت لکھ کر گیا تھا، معلوم نہیں واپس کیسے آگیا۔
مشتاق احمد نے مزید کہا کہ ملک بھر میں ایک لاکھ فلسطین کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی تاکہ مقامی سطح پر شعور، یکجہتی اور عملی حمایت کو منظم کیا جا سکے، وہ کراچی سے ہزاروں کشتیوں کا قافلہ غزہ روانہ کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں اور امریکی سفارتخانے کے سامنے پرامن دھرنا دینے کی اپیل بھی کی ہے۔
سابق سینیٹر نے سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام اختلافات بھلا کر فلسطینی عوام کی حمایت میں متحد ہو جائیں۔ ان کے اعلان نے ملک بھر میں سیاسی و عوامی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ ان کی مہم کی تفصیلات اور لائحہ عمل پر مختلف حلقے قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ویب ڈیسک
دانیال عدنان
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلام آباد مشتاق احمد
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :