سیف علی خان کا سابقہ اہلیہ امریتا سنگھ کے بارے میں حیران کن اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
اداکار سیف علی خان نے اعتراف کیا ہے کہ اگر امریتا نہ ہوتیں تو شاید میں بالی ووڈ میں راستہ ہی نہ ڈھونڈ پاتا۔
اس بات کا انکشاف بالی ووڈ کے نواب سیف علی خان نے اپنے ایک انٹرویو میں کیا۔ انھوں نے برسوں بعد پہلی بار اپنی سابقہ بیوی اور سینئر اداکارہ امریتا سنگھ کے بارے میں وہ باتیں کھول کر بتا دیں جن کا ذکر وہ پہلے کبھی نہ کر سکے تھے۔
سیف علی خان نے کہا کہ میں کم عمر اور نا تجربہ کار تھا۔ ہماری شادی چاہے نہیں چل سکی، لیکن میں پہلی بار کہہ رہا ہوں۔ امریتا نے مجھے انڈسٹری سمجھنے، لوگوں کو پہچاننے اور اپنے راستے بنانے میں بے پناہ مدد دی۔
اس انٹرویو میں اداکارہ کاجول بھی موجود تھیں جنھوں نے مذاق میں کہا کہ “اچھا، تو امریتا نے آپ کو اچھی طرح بڑا کیا؟”
جس پر سیف نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ ہاں، کچھ سال واقعی بہت سیکھنے والے تھے اور ہاں، وہ ایک بہترین ماں ہیں۔ ہم آج بھی بات کر لیتے ہیں۔ خاص طور پر جب میں اسپتال میں ہوتا ہوں!”
خیال رہے کہ سیف اور امریتا کی محبت کی کہانی فلم بےخودی کے سیٹ سے شروع ہوئی اور بغیر کسی فلمی ڈیبیو کے ہی سیف نے 1991 میں امریتا سے شادی کی۔
امریتا سنگھ اس وقت 33 سال کی تھیں اور ایک کامیاب اور مقبول ہیروئن تھیں جب کہ 21 سالہ سیف علی خان کا ابھی کیریئر شروع بھی نہیں ہوا تھا کہ فلم ابھی سینما میں لگی بھی نہیں تھی۔
سیف اور امریتا کے دو بچے ہیں جن میں سے سارہ علی خان اپنی ماں کی طرح ایک مقبول اداکارہ بنتی جا رہی ہیں جب کہ ابراہیم بھی باپ کے نقش قدم پر چل پڑے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سیف علی خان
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔