اسلام آباد میں 24 گھنٹوں کے دوران ڈینگی وائرس کے مزید 25 کیسز رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی دارالحکومت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ڈینگی وائرس کے مزید 25 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق متاثرہ مریضوں میں سے 18 کا تعلق دیہی علاقوں اور 7 کا تعلق شہری علاقوں سے ہے، اس وقت 19 مریض مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ وفاقی دارالحکومت کے علاقے ترلائی میں ڈینگی کے سب سے زیادہ 6 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے بعد علاقے کو ہائی رسک قرار دے کر خصوصی اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
گزشتہ دنوں کے دوران 44 ہزار 636 انسدادی سرگرمیاں مکمل کی گئیں اور 28 مقامات پر ڈینگی لاروا کی موجودگی کی نشان دہی کی گئی اور ہاٹ اسپاٹ قرار دے کر فوری کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ انسدادی اقدامات کے تحت ایک ہزار 684 رہائشی علاقوں میں اسپرے مہم مکمل کی گئی ہے، جبکہ 2 ہزار 585 مقامات پر بڑے پیمانے پر فوگنگ آپریشن بھی مکمل کیے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔