Express News:
2026-06-03@04:46:14 GMT

احتجاج کی سیاست،مزاحمت اور حکومت کا طرز عمل

اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT

پاکستان میں ایک عمومی رائے یہ پائی جاتی ہے کہ اگر آپ نے اپنے سیاسی ،سماجی ،معاشی اور قانونی مطالبات کی منظوری میں سخت گیر طرز کی مزاحمت حکومت کے نظام کے خلاف اختیار نہ کی تو آپ کے مسائل حل نہیں ہوسکیں گے؟کیونکہ ہمارا حکمرانی کا نظام اسی صورت میں لوگوں کی باتوں کو سنتا ہے جب آپ حالات کو بند گلی میں لے جاتے ہیں یا حالات کو اس نہج پر پہنچا دیتے ہیں جہاں حکمران طبقہ کے پاس آپ سے بات چیت یا مطالبات کی منظوری کے سوا کوئی آپشن موجود نہیں ہوتا۔کیونکہ حکمرانی کا نظام ابتدا ہی میں مخالفین کو ساتھ ملا کر بات چیت کرنا،مسائل کے حل میں سیاسی اور جمہوری راستہ تلاش کرنا،طاقت کے استعمال سے گریز کی پالیسی کو اختیار کرنا ہمارے مزاج کا حصہ نہیں ہے۔

یہ ہی وجہ ہے کہ لوگ یا سیاسی جماعتیں یا دیگر قوتیں اپنے مطالبات کے حق میں وہ راستہ اختیار کرنے کو ترجیح دیتی ہیں جو اصولی طور پر نہیں ہونا چاہیے ۔کیونکہ اس طرز میں پرتشدد راستے سامنے آتے ہیں جو بظاہر ریاست اور حکمرانی کے نظام میں کوئی اچھے سیاسی آپشن نہیں ہیں۔

اسی طرح ہمارا ایک مزاج یہ بھی بن گیا ہے کہ ہم اس طرز کی سیاسی اور سماجی مزاحمت میں داخلی اور خارجی سازشی پہلوتلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس میں حکمران طبقہ پیش پیش ہوتا ہے ۔کیونکہ حکمرانی کے نظام پر تنقید کرنے کو ہم سیاسی دشمنی کے پہلو میں دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ عام لوگ بھی اپنے سیاسی ،سماجی ،معاشی اور قانونی حقوق کی بات لے کر سیاسی میدان میں کودتے ہیں وہ کسی سازشی کھیل کا حصہ ہیں یا ان کو نظام کے خلاف بغاوت کے طور پر لیا جاتا ہے۔

یہ ہی وجہ ہے کہ ہمیں سیاسی احتجاج کی صورت میں دو طرز کے بیانات دیکھنے کو ملتے ہیں کہ اول یہ قوتیں ریاست اور حکمرانی کے نظام کے خلاف کسی سازش کے کھیل کا حصہ ہیں اوردوئم ہم احتجاج کی بنیاد پر اپنے حقوق کی جنگ کو لڑنے کی کوشش کر رہے ہیں جسے حکومت تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔یہ ہی وہ دو متضاد سوچ ہے جو نظام کے اندر جہاں ٹکراؤ کو پیدا کرتی ہے وہیں ان میں ایک دوسرے کے خلاف سیاسی بغاوتیں جنم لیتی ہیں۔

حالیہ آزاد کشمیر میں ہونے والی احتجاجی تحریک میں بھی ہمیں یہ پہلو دیکھنے کو ملے۔پھر اسی احتجاجی تحریک کی کمیٹی کے ساتھ ہی حکومت کا بیٹھنا،بات چیت کرنا ،مطالبات کو تحریری طور پر تسلیم کرنا اور تحریک کا خاتمہ مختلف وعدوں کی بنیاد پر ختم ہوناجیسا عمل حکمران طبقات کی جانب سے ابتدا ہی میں کیونکر اختیار نہیں کیا گیا اور کیوں اس تحریک کو ضرورت سے زیادہ پھیلنے کا موقع دیا گیا۔اس پر بہت زیادہ سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔

بنیادی طور پر سیاسی اور دیگر مسائل کا حل ہمیں پرامن اور جمہوری تناظر میں ہی تلاش کرنا چاہیے اور یہ ہی حکومت سمیت احتجاج کرنے والی قوتوں کی ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے۔کیونکہ اگر لوگ سیاسی اور قانونی سطح کے دائرہ کار میں رہ کر اپنی پرامن مزاحمت کرتے ہیں تو حکومتی نظام کو ان کا یہ سیاسی حق تسلیم کرنا چاہیے۔اسی طرح احتجاج کرنے والے فریقین کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ حالات کو اس نہج پر نہ لے جائیں جہاں تشدد جنم لے ۔یہ ذمے داری کسی ایک فریق کی نہیں بلکہ اس میںتمام فریقین ذمے دار ہیں اور حالات کی خرابی میں دونوں کو ہی ذمے داری لینی بھی چاہیے۔

حکومت کا طرز عمل یہ بھی ہوتا ہے کہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ سیاسی احتجاج کا راستہ شدت اختیار کرگیا ہے تو پھر حکومت بچاؤ کے لیے پہلے مذاکرات کا راستہ اختیار کرتی ہے اوراحتجاج کے خاتمہ کے لیے ان سے زبانی یا تحریری معاہدے بھی کرتی ہے مگر جیسے ہی حالات بدلتے ہیں تو کیے گئے وعدوں سے انحراف کرکے حکمران طبقہ مستقبل کے لیے اپنے لیے مزید مسائل پیدا کرتا ہے اور لوگ پھر حکومتی وعدوں پر اعتبار نہیں کرتے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ احتجاج کی سیاست کے دوران ہی مطالبات کی منظور ی کی بات کی جاتی ہے اور سمجھا جاتا ہے جو چیز آج منظور ہوگئی وہی سچ ہے مگر سب جھوٹے دعوے ہیں۔

 حکومت کو ایک بات سمجھنی چاہیے کہ لوگ ملک میں حکمرانی کے نظام سے نالاں ہیں اور ان کے تمام تر مسائل بالخصوص جو معاشی مسائل ہیں ان میں کافی شدت نظر آتی ہے ۔لوگ نالاں ہیں کہ حکمرانی کا نظام ان کے مسائل اور جو تحفظات ہیں ان پر کسی بھی قسم کی سنجیدگی دکھانے کے لیے تیار نہیں جو لوگوں میں جہاں غصہ کو پیدا کرتا ہے وہیں ان میں حکمرانی کے خلاف انتہا پسندانہ رجحانات دیکھنے کو بھی ملتے ہیں جو درست عمل نہیں ۔

خاص طور ملک کے وہ علاقے جو پس ماندہ ہیں یا سیاسی اور معاشی سمیت انتظامی محرومیوں کا شکار ہیں جہاں کمزور طبقات کے مسائل کو حل نہیں کیا جاتا تو وہاں ہمیں ردعمل کی سیاست زیادہ دیکھنے کو ملتی ہے ۔یہ سوال بھی حکمرانی کے نظام میں اہم ہونا چاہیے کہ لوگ کیونکر اپنے مقامی مسائل کی بنیاد پر سڑکوں پر آتے ہیں یا احتجاج کا راستہ اختیار کرتے ہیں ۔یہ سب کچھ اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے جب حکمرانی کا نظام لوگوں کے لیے اپنے دروازے بند کردیتا ہے اور جو لوگ بھی احتجاج کے لیے باہر نکلتے ہیں ان کے خلاف طاقت کے استعمال کو بنیاد بنا کر ہم سمجھتے ہیں ہمیں حالات کو کنٹرول کرنا آتا ہے ۔

ملک میں احساس محرومی کی سیاست بڑھ رہی ہے ۔بلکہ اب یہ معاملات محض چھوٹے یا پس ماندہ علاقوں یا دیہات تک محدود نہیں رہے بلکہ اب تو پاکستان کے بڑے شہروں کے مسائل یا گورننس کا نظام اس حد تک بگڑ گیا ہے کہ حالات کی درستگی کا کوئی بڑا واضح اور شفاف روڈ میپ ہی نظر نہیں آتا۔

اب دیکھنا یہ ہوگا کہ آزاد کشمیر میں حکومت اورجوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کامیاب تحریری مذاکرات کے بعد ان تمام معاملات پر حکومت سنجیدگی سے عملدرآمد کرسکے گی یا محض یہ عمل بھی ماضی کی حکمت عملیوں کی بنیاد پر سیاسی ٹال مٹول کا ذریعہ بنے گا۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ مستقبل میں اس طرز کے پرتشدد رجحانات پر مبنی پالیسیوں سے گریز کریں اور حالات کو اس نہج پر نہ لے کر جائیں جہاں سوائے تشدد اور طاقت کے استعال کے کچھ اور نہ بچے۔

آج کی جدید ریاستیں اورحکمرانی کا بہتر اور شفاف نظام ہی ریاستوں کی سیاسی اور معاشی بقا سے جڑا ہوا ہے ۔لیکن ہم اپنی خامیوں اور ناکامیوں کو قبول کرنے کی بجائے بڑی سیاسی ڈھٹائی کے ساتھ اسی نظام کو بنیاد بنا کر ہی آگے بڑھنا چاہتے ہیں جو ہمیں مزید ناکامیوں کی طرف دھکیل رہا ہے ۔لیکن کیا ہم اپنی آج کی حکمرانی میں موجود حکمت عملیوں سے باہر نکلنے کے لیے تیار ہیں ، اس پر غور ہونا چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: حکمرانی کے نظام حکمرانی کا نظام کی بنیاد پر ہونا چاہیے دیکھنے کو احتجاج کی سیاسی اور حالات کو کے مسائل کی سیاست نظام کے کے خلاف ہیں اور کا حصہ بات کی ہیں کہ کے لیے ہے اور ہیں ان ہیں جو

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی