جیل میں بیٹھا شخص دہشت گردوں کا چیف اسپانسر ہے جس نے دہشت گردوں کو واپس لاکر بسایا، عطا تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
جیل میں بیٹھا شخص دہشت گردوں کا چیف اسپانسر ہے جس نے دہشت گردوں کو واپس لاکر بسایا، عطا تارڑ WhatsAppFacebookTwitter 0 9 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ جیل میں بیٹھا شخص دہشت گردوں کا چیف اسپانسر ہے جس کے دور حکومت میں نیشنل ایکشن پلان کو ختم کرکے دہشت گردوں کو واپس لاکر بسایا گیا۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لندن کی عدالت کا فیصلہ پی ٹی آئی کی شکست ہے، ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے والے عناصر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، پی ٹی آئی کا ٹولہ دہشت گردوں کا سہولت کار ہے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ جیل میں بیٹھا شخص دہشت گردوں کا چیف اسپانسر ہے اور دہشت گردوں کو اس سے سہولت کاری ملتی ہے لیکن ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے والے عناصر کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ دہشت گردی کی سہولت کاری کے لیے سہیل آفریدی کو لایا گیا، جیل میں بیٹھے شخص کے دور میں دہشت گردوں کو واپس لایا گیا، کے پی کی سیاست بھی اسی کے ارد گرد گھوم رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں، پاکستان کی سیکیورٹی اسلام آباد میں بنتی ہیاور وہیں بنے گی، ملک کی پالیسی افغانستان میں نہیں بنیں گی۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ریاستی اداروں اور قومی اداروں کے خلاف بیانیہ ناکام ہوگیا، لندن کی عدالت کا فیصلہ ایسے عناصر کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے۔عطا تارڑ نے کہا کہ تحریک انصاف کا انشتاری ٹولہ اور دہشت گردوں کا سہولت کار ہے، جیل میں بیٹھے شخص کے دور میں دہشت گردوں کو واپس لایا گیا۔
وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا پورا انتشاری ٹولہ دہشت گردوں کا سہولت کار ہے، عمران خان کے ماضی کے بیانات میں یہی کہا گیا کہ یہ اچھے لوگ ہیں، ان سے مذاکرات کرنے چاہیے اور واپس لانا چاہیے لیکن وہ لوگ بے گناہوں کو نہیں چھوڑتے، اسکول، مساجد میں حملے کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کو وزیراعلی کو نامزد کیا گیا، علی امین گنڈاپور سے رنجش یہ تھی کہ تم دہشت گردوں کی ٹھیک طریقے سے سہولت کاری نہیں کرپارہے تھے اور ان کے خلاف کارروائی بند نہیں کرپارہے تھے اور وہ بانی پی ٹی آئی کی توقعات پر پورا نہیں اتر رہے تھے اس لیے انہیں عہدے سے ہٹایا گیا۔
عطا تارڑ نے کہا کہ عمران خان نے کہا کہ ایسا بندہ لا جو اشتہاری مراد سعید کا قریبی ساتھی ہو اور دہشت گردوں کے حوالے سے بھی نرم گوشہ رکھتا ہو، سہیل آفریدی کو اس لیے لایا گیا کہ وہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو مکمل طو پر سپورٹ اور پروموٹ کیا جائے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہمارے شہدا کے لواحقین عظیم مرتبے پر فخر محسوس کرتے ہیں، قوم شہدائے وطن کو سلام پیش کرتی ہے، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل شہدا کی نماز جنازوں میں شریک ہوئے، پاک سرزمین کے بہادر سپوتوں کے عزم اور جذبے کو سلام پیش کرتے ہیں۔ قبل ازیں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی ہر ریاست مخالف سازش کو بین الاقوامی عدالتوں اور فورمز پر شکست ہوئی ہے۔عطا تارڑ نے کہا کہ آج کا لندن کی عدالت کا فیصلہ درحقیقت پاکستان کے حق میں آیا ہے۔ پاکستان کے دشمنوں اور اس کے آلہ کاروں کا ہر میدان میں شکست مقدر ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعظم اور چیئرمین پی پی بلاول بھٹو کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، سیاسی صورتحال اور اہم قومی امور پر بات چیت وزیراعظم اور چیئرمین پی پی بلاول بھٹو کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، سیاسی صورتحال اور اہم قومی امور پر بات چیت آئینی ترمیم کے بعد ترقی پانے والے ججز کو بنچ میں نہیں بیٹھنا چاہئے: جسٹس مسرت بھارت پراپیگنڈے کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں دہشتگردی چھپا نہیں سکتا:پاکستان اسرائیل، حماس امن معاہد ہ طے ، اسرائیل کی دو سالہ بربریت کا خاتمہ، غزہ میں جنگ بندی معاہدہ نافذ العمل شبلی فراز کی خالی سینیٹ نشست پر انتخاب، رہنما پی ٹی آئی عرفان سلیم نے کاغذات نامزدگی جمع کرادیے معاہدہ کافی نہیں عملدرآمد لازم ، حماس کا اسرائیل کو شرائط کا پابند بنانے کا مطالبہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: دہشت گردوں کو واپس عطا تارڑ نے کہا کہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی لایا گیا
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔