لاہور (خصوصی نامہ نگار) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ غزہ امن معاہدہ حماس اور اہل فلسطین کی عظیم جد وجہد کا ثمر ہے۔ معاہدہ پر اسرائیل سے عملدرآمد کی تمام ذمہ داری امریکہ اور مصالحت کرانے والے ممالک کی ہوگی۔ ناکہ بندی کھلنے پر الخدمت فاؤنڈیشن غزہ میں تین ارب روپے کی لاگت سے ہسپتال بنائے گی اور پاکستان سے ایک ارب ڈالر مالیت کی امداد اکٹھی کر کے اہل فلسطین کو بھیجیں گے۔ اسلام آباد میں بچوں کے غزہ ملین مارچ سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاکستانی قوم مقدس سرزمین پر دو نہیں واحد ریاست فلسطین کا قیام چاہتی ہے۔ ہم اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔ مارچ سے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں محمد اسلم، امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا اور پرائیویٹ سکولوں کی ایسوسی ایشنز کے رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے مارچ میں شریک ہزاروں بچوں، ان کے والدین اور اساتذہ کو اہل فلسطین کے حق میں آواز بلند کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کا معاہدہ جس پر حماس اور اسرائیل نے برابری کی سطح پر دستخط کیے ثابت کرتا ہے کہ آزادی کبھی بھی گھر بیٹھنے اور باتیں کرنے سے نہیں ملتی، اس کے لیے جد وجہد کرنا پڑتی ہے۔ فلسطینیوں نے قربانیاں دے کر ثابت کیا ہے کہ وہ عظیم قوم ہیں اور مسلمانوں کے قبلہ اول کے محافظ ہیں، مسجد اقصیٰ پر صہیونیوں کا قبضہ ہے۔ اسرائیل قابض اور ناجائز ریاست ہے۔ اسرائیل امریکہ کی مدد سے اپنے ناپاک ارادوں کی تکمیل کے لیے مسلمانوں پر حملے کر رہا ہے۔ اسرائیل کی تمام کارروائیوں میں امریکہ اس کا پشتیبان ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حماس نے قربانیاں دے کر اپنے وجود کو تسلیم کرایا ہے، حماس اور اہل غزہ کی مزاحمت کو سلام کرتے ہیں، حماس فلسطین کی عوامی اور جمہوری قوت ہے جس کا راستہ روکا گیا، حماس نے آزادی کے دفاع کے لیے مزاحمت کا آغاز کیا، یہ حق اسے اقوام متحدہ سے ملتا ہے۔ انہوں نے کہا حالیہ معاہدے کے بعد اب ڈونلڈ ٹرمپ کا امتحان ہے کہ وہ کیسے اسرائیلی جارحیت کو روکتا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا کہ اسلام آباد میں حماس کو دفتر کھولنے کی اجازت دی جائے۔ وزیراعظم شہباز شریف صرف ایک ریاستی حل کی بات کریں۔ ایٹمی طاقت ہو نے کے ناطے پاکستان امت کے مسائل کے حل کے لیے قائدانہ کردار ادا کرے۔ مسلمان ممالک متحد ہونے کا اعلان کر دیں تو کسی کو مسلمانوں پر حملے کی جرات نہ ہو۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ خود فلسطینیوں کے لیے امداد اکٹھی کریں گے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن نے اسلام ا باد نے کہا کے لیے

پڑھیں:

ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ

آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اسکے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا اثر اب ہندوستان کی معیشت پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنائے رکھنے اور روپئے پر دباؤ کم کرنے کے لئے اپنے سونے کے ذخیرے کا کچھ حصہ فروخت کر دیا ہے۔ بلومبرگ اکنامکس کی ایک رپورٹ کے مطابق 22 مئی کو ختم ہوئے 2 ہفتے کے دوران آر بی آئی نے قریب 12 ارب (تقریباً 1.14 لاکھ کروڑ روپئے) قیمت کا سونا فروخت کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دوران مرکزی بینک نے قریب 7.5 ارب ڈالر (713.23 ارب روپئے) کے غیر ملکی کرنسی اثاثے حاصل کئے ہیں۔

بتا دیں کہ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا خام تیل درآمد کنندہ ملک ہے۔ ایسے میں مغربی ایشیا میں بڑھتے تنازع کے سبب تیل کی قیمتوں میں تیزی آنے سے بھارت پر اضافی اقتصادی دباؤ پڑ رہا ہے۔ تیل درآمد پر اقتصادی خرچ ہونے سے زر مبادلہ کے ذخائر اور روپئے دونوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ "بلومبرگ اکنامکس" کے سینیئر ہندوستانی ماہر اقتصادیات ابھیشیک گپتا نے بتایا کہ دستیاب اعداد و شمار سے اشارہ ملتا ہے کہ آر بی آئی کے سونے کے ذخائر میں کمی آئی ہے جبکہ سونے پر درآمد ڈیوٹی بڑھنے کی وجہ سے اس کی قیمت میں اضافہ ہونا چاہیئے تھا۔ اسی بنیاد پر اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے مرکزی بینک نے سونے کی فروخت کی ہو۔

اگر یہ اندازہ درست ثابت ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ آر بی آئی نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مزید مضبوط اور آسانی سے استعمال کے قابل بنائے رکھنے کے لئے یہ قدم اٹھایا ہے۔ ایسا اس لئے بھی اہم مانا جا رہا ہے کیونکہ ایران بحران اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق رکاوٹوں کے باعث تیل کی سپلائی اور عالمی تجارت پر دباؤ بڑھا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آر بی آئی مستقبل میں بھی موقع ملنے پر زر مبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی کوشش کر سکتا ہے، اگر ڈالر کمزور ہوتا ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے یا خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ آتی ہے تو مرکزی بینک مزید زر مبادلہ کے ذخائر حاصل کر سکتا ہے۔

مارچ 2025ء کے آخر تک آر بی آئی کے پاس 880.52 میٹرک ٹن سونا تھا۔ اس میں سے تقریباً 77 فیصد سونا ہندوستان میں ہی رکھا گیا تھا جبکہ 6 ماہ پہلے یہ اندازہ 66 فیصد تھا۔ آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اس کے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ حالیہ سالوں میں آر بی آئی نے سونے کے ذخائر کا بڑا حصہ ہندوستان واپس منگایا ہے۔ اس کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی مانی جاتی ہے کہ روس-یوکرین جنگ کے بعد مغربی ممالک کے ذریعہ روس کے غیر ملکی اثاثے منجمد کئے جانے سے کئی ممالک کے مرکزی بینک غیر ممالک میں رکھے ذخیرے کے حوالے سے زیادہ الرٹ ہوگئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اب وقت آگیا، دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں، ٹرمپ کا ایران کو پیغام
  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن