ذرائع کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا کہ حکومت پاکستان نے مذاکرات اور باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے آزاد جموں و کشمیر کے لوگوں کی سماجی، معاشی اور انتظامی شکایات کو موثر طریقے سے حل کیا۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں جاری بھارت کے وحشیانہ مظالم اور جابرانہ فوجی کارروائیوں کے بالکل برعکس پاکستان نے آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ عوامی شکایات کو پرامن اور مثبت طریقے سے حل کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا کہ حکومت پاکستان نے مذاکرات اور باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے آزاد جموں و کشمیر کے لوگوں کی سماجی، معاشی اور انتظامی شکایات کو موثر طریقے سے حل کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کا طرز عمل اس کی دانشمندی اور جمہوری عزم کی عکاسی کرتا ہے کیونکہ زیادہ تر عوامی مطالبات کو تسلیم کیا گیا اور نیک نیتی سے ان پر عمل درآمد کیا گیا۔ ترجمان نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال کا پرامن حل پاکستان کے ذمہ دارانہ اور جمہوری طرز عمل کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

بھارت کے برعکس پاکستان نے احتجاجی رہنمائوں کو گرفتار کرنے کی بجائے مذاکرات، شمولیت اور مقامی لوگوں کو مطمئن کرنے کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ کشیدگی کے دوران بھی آزاد جموں و کشمیر کے حکام نے تحمل اور لوگوں کے پرامن اجتماع کے حق کے لیے احترام کا مظاہرہ کیا۔ حریت کانفرنس نے کہا کہ یہ عوام دوست طرز عمل مقبوضہ جموں و کشمیر کی سنگین صورتحال کے بالکل برعکس ہے جہاں بھارت ظلم و جبر کے ذریعے حکومت کر رہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ دفعہ  370اور 35A کی غیر قانونی منسوخی کے بعد سے بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کو ایک فوجی چھائونی میں تبدیل کر دیا ہے۔ سرکردہ حریت رہنمائوں سمیت ہزاروں افراد بغیر کسی عدالتی کارروائی کے یو اے پی اے اور پی ایس اے جیسے کالے قوانین کے تحت نظر بند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی زیر قیادت ہندوتوا حکومت نے مقبوضہ علاقے میں تمام جمہوری سرگرمیوں کا گلا گھونٹ دیا ہے جہاں پرامن اختلاف رائے سے گرفتاریوں، چھاپوں اور وحشیانہ طاقت کے استعمال سے نمٹا جاتا ہے یہاں تک کہ منتخب نمائندے بھی مقامی شکایات پر آواز اٹھانے پر جیلوں میں ڈالے جاتے ہیں جبکہ صحافیوں، وکلاء اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو مسلسل ہراساں کیا جاتا ہے۔

حریت ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بجلی کے نرخ آزاد جموں و کشمیر کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں اور لوڈشیڈنگ کے خاتمے اور پینے کے پانی کی فراہمی کے مطالبے پر لوگوں کو وحشیانہ مظالم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں زمینیں چھین کر باہر کے لوگوں کو الاٹ کی جاتی ہیں جبکہ آزاد کشمیر میں ایسی ناانصافی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں میڈیا کا گلا گھونٹا گیا ہے جبکہ آزاد کشمیر میں لوگ بغیر کسی پابندی کے اظہار رائے کی آزادی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ لداخ کا حوالہ دیتے ہوئے حریت ترجمان نے کہا کہ آئینی ضمانتوں کا مطالبہ کرنے والے پرامن مظاہرین کے خلاف بھارت طاقت کا وحشیانہ استعمال کرتا ہے جسے جائز اختلاف رائے کے تئیں مودی حکومت کا عدم برداشت بے نقاب ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہتے شہریوں کو گولی مارنا اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کو کالے قانون کے تحت گرفتار کرنا سچائی سے بھارت کے خوف کو ظاہر کرتا ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس واضح تضاد کا سنجیدہ نوٹس لے اور لداخ خطے سمیت مقبوضہ جموں و کشمیر میں جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھارت کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔ حریت ترجمان نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی منظور شدہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کو حل کرے تاکہ خطے میں پائیدار امن و استحکام قائم ہو سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر کے ترجمان نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے شکایات کو بھارت کے کرتا ہے

پڑھیں:

شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان

ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی