جامعہ کراچی میں پوائنٹ کی زد میں آکر طالبہ جاں بحق، ورثا نے ڈرائیور کو معاف کردیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
جامعہ کراچی میں افسوسناک حادثے کے دوران پوائنٹ کی زد میں آکر طالبہ جاں بحق ہوگئی، حادثہ پوائنٹ سے اترنے کے دوران پیش آیا، طالبہ کے ورثا نے قانونی کارروائی سے انکار کرتے ہوئے زیر حراست بس ڈرائیور کو رہا کروادیا، شیخ الجامعہ نے واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کردی۔
نجی ٹی وی کے مطابق جامعہ کراچی میں پوائنٹ سے اترنے کے دوران حادثے کے نتیجے میں طالبہ جان کی بازی ہار گئی، متوفیہ کی شناخت انیقہ سعید دختر احمد سعید کے نام سے ہوئی جو بی ایس سوشل ورک ڈپارٹمنٹ کی طالبہ تھی۔
طالبہ جامعہ کراچی کے پوائنٹ میں سوار تھی، بس سے اترتے ہوئے حادثہ پیش آیا، حادثے کے فوری بعد طالبہ کو قریبی ہسپتال لے جایا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکی۔
واقعے کے بعد جامعہ کراچی کے طلبہ نے شدید احتجاج کیا اور ملوث ڈرائیور کے خلاف قانونی کارروائی اور دیگر مطالبات کے حق میں نعرے لگائے۔
شیخ الجامعہ خالد عراقی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی، کمیٹی این ای ڈی یونیورسٹی کے شعبہ ٹرانسپورٹ کے انچارج اور 2 طالب علموں پر مشتمل ہے جبکہ شعبہ کرمنالوجی کی نائمہ سعید کو کمیٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس نے پوائنٹ کے ڈرائیور کو حراست میں لیا تھا تاہم متوفیہ کے ورثا نے شور شرابا کرکے اسے چھڑا دیا، ورثا کا کہنا تھا وہ کسی قسم کی قانونی کاروائی نہیں چاہتے۔
پولیس نے بتایا کہ متوفیہ کے ورثا واقعے کا مقدمہ بھی درج نہیں کرانا چاہتے جبکہ بس کا ڈرائیور اسپتال میں ہی موجود ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جامعہ کراچی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔