خوبصورتی کے انجیکشن نے امریکی اداکارہ کی جان لے لی؛ بیوٹیشن پر فرد جرم عائد
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
امریکی ٹی وی انڈسٹری میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب عدالت نے بغیر لائسنس بیوٹیشن کو مشہور ٹی وی اداکارہ سِنڈیانا سینٹانجلو کی موت کا ذمہ دار قرار دے دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 58 سالہ اداکارہ سِنڈیانا سینٹانجلو کو خوبصورت، سڈول اور جوان نظر آنے کے لیے 24 مارچ کو سلیکون انجیکشن لگایا گیا تھا۔
انجیکشن لگانے کے فوراً بعد اداکارہ کی حالت بگڑ گئی۔ مبینہ طور پراداکارہ میں ایمبولزم (خون میں لوتھڑے یا شریان بند ہونے) جیسی پیچیدگی پیدا ہوئی جو موت کا سبب بنی۔
امریکی عدالت نے انجیکشن لگانے والی بیوٹیشن 55 سالہ لیبی ایڈمے کو مجرم قرار دیا ہے جو انڈسٹری میں ’’بٹ لیڈی‘‘ کے نام سے مشہور ہیں۔
حیران کن طور پر بیوٹیشن کے پاس انجیکشن لگانے کے لیے کوئی طبی لائسنس نہیں تھا۔ خاتون بیوٹیشن کو 2019 میں بھی اسی طرح کے مقدمے میں سزا مل چکی ہے۔
اب اس کیس میں بھی انھیں قتل اور غیر قانونی میڈیکل پریکٹس کے تحت حتمی سزا 5 نومبر کو سنائی جائے گی۔
اداکارہ سِنڈیانا سینٹانجلو نے مقبول سیٹ کام "Married.
یاد رہے کہ بھارت میں بھی معروف اداکارہ شیفالی ایک بیوٹی انجیکشن لگوانے کے بعد جان کی بازی ہار گئی تھیں۔
کاسمیٹک انجیکشن لگوانے کے فوراً بعد ان کی طبیعت بگڑ گئی اور دل کی دھڑکن بے قابو ہونے لگی تھی۔ اسپتال منتقل کرنے کے باوجود انہیں بچایا نہ جا سکا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔