غزہ میں جنگ بندی کے بعد قیدیوں کے تبادلے کی تیاری، فلسطینی گھروں کو لوٹنا شروع
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
غزہ میں امریکی ثالثی سے طے پانے والی جنگ بندی کے بعد فلسطینی شہریوں نے اپنے گھروں کو واپسی شروع کر دی ہے۔ درجنوں افراد غزہ کی ساحلی سڑک ‘الرشید اسٹریٹ’ کے راستے شہر میں داخل ہوتے دیکھے گئے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق جنگ بندی دوپہر 12 بجے (مقامی وقت) نافذ ہوئی، جس سے قبل اسرائیلی کابینہ نے جنگ کے خاتمے کے پہلے مرحلے کی منظوری دی۔
یہ بھی پڑھیے: غزہ میں جنگ بندی نافذ، اسرائیلی افواج پیچھے ہٹ گئیں، شہریوں کا جشن
فوجی انخلا
امریکا اور اسرائیل کے مطابق اسرائیلی افواج نے غزہ کے بعض علاقوں سے انخلا کے پہلے مرحلے کو مکمل کر لیا ہے۔ تاہم فلسطینیوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ چند مخصوص علاقوں میں جانے سے گریز کریں۔
قیدیوں کا تبادلہ
اسرائیلی وزارتِ انصاف نے 250 فلسطینی قیدیوں کی فہرست جاری کر دی ہے جنہیں حماس کے قبضے میں موجود اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے رہا کیا جائے گا۔ تاہم فہرست میں ان متعدد فلسطینی مزاحمتی رہنماؤں کے نام شامل نہیں ہیں جن کی رہائی کا مطالبہ حماس نے کیا تھا۔
ٹرمپ کا مجوزہ دورہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جلد اسرائیل کے ہنگامی دورے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جہاں انہیں اسرائیلی پارلیمنٹ ‘کنیسٹ’ سے خطاب کی دعوت دی گئی ہے۔ ٹرمپ نے گزشتہ روز کہا کہ وہ ممکنہ طور پر مصر بھی جائیں گے، جہاں جنگ بندی کے معاہدے پر باضابطہ دستخط ہونے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: کیا غزہ میں جنگ بندی دیرپا ثابت ہوگی؟ خدشات،اثرات، مضمرات
ان کا کہنا تھا کہ وہ شاید اس وقت خطے میں موجود ہوں گے جب غزہ میں باقی ماندہ یرغمالیوں کی رہائی عمل میں آئے گی۔
عالمی ردعمل
یورپی ممالک کے رہنماؤں فرانس کے صدر ایمانویل میکرون، جرمنی کے چانسلر فریڈرش میرٹس اور برطانیہ کے وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر، نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں امداد کی بحالی کا خیرمقدم کیا ہے۔
انہوں نے اپنے مشترکہ بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، مصر اور قطر کے کردار کو بھی سراہا جنہوں نے اس جنگ بندی کے معاہدے میں اہم کردار ادا کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا غزہ فلسطین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل امریکا فلسطین جنگ بندی کے
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔