صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام تو نہ مل سکا لیکن وہ غزہ جنگ بندی کو اپنی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے اس کا جشن منانے مشرق وسطیٰ جائیں گے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ میں خود کو امن کا معمار ثابت کرنے کے لیے میدان میں آ گئے ہیں۔

صدر ٹرمپ اتوار کو اسرائیل پہنچیں گے جہاں وہ غزہ امن منصوبے کی کامیابی پر جشن منائیں گے اور ممکنہ طور پر اسرائیلی یرغمالیوں کو رہائی پر خوش آمدید کہیں گے۔

جس کے بعد امریکی صدر مصر جائیں گے جہاں اس تاریخی جنگ بندی معاہدے پر فریقین نے طویل مذاکرات کے بعد اتفاق کیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ مصر میں غزہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر طے ہونے والے معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔

یاد رہے کہ اسرائیل اور حماس امریکی صدر کے مذاکراتی کردار کو سراہ چکے ہیں جبکہ عرب میزبان ممالک میں ان کے لیے خیرمقدمی تقاریب کی توقع ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ٹرمپ اس معاہدے کا کریڈٹ لے رہے ہیں مگر حقیقی امن اس وقت ہی ممکن ہوگا جب وہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو پر دباؤ ڈالیں کہ جنگ بندی کے بعد بمباری دوبارہ شروع نہ کریں۔

دوحہ انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر محمد المصری نے کہا کہ امید ہے ٹرمپ نیتن یاہو کو باور کرائیں گے کہ اب جنگ کا خاتمہ ناگزیر ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔

صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔

بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔

اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام