وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے آپشن کو ناقابل عمل قرار دے دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی سیکریٹریٹ میں آئینی ماہرین کا اجلاس ہوا، جس میں مستعفی ہونے والے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے آپشن پر غور کیا گیا۔

آئینی ماہرین نے قرار دیا ہے کہ اسمبلی سیکریٹریٹ کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ استعفیٰ دے چکے ہیں، اب چوں کہ علی امین گنڈاپور استعفیٰ دے چکے، اس لیے مستعفی وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک نہیں لائی جاسکتی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک کو عدالت میں چیلنج کیاجاسکتا ہے، پی ٹی آئی نے آئینی ماہرین اوراسمبلی سیکریٹریٹ کی سفارشات کے بعد عدم اعتماد کا فیصلہ موخر کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ علی امین گنڈاپور کا بطور وزیر اعلیٰ پختونخوا استعفیٰ منظور نہ کیے جانے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے انہیں تحریک عدم اعتماد سے ہٹانے کا فیصلہ کرلیا تھا، جس کے لیے اسمبلی کا ہنگامی اجلاس آج طلب کیا گیا تھا۔

اسمبلی کے اجلاس کا فیصلہ پی ٹی آئی کی قیادت کی گزشتہ رات گئے اہم بیٹھک میں کیا گیا تھا، جس میں طے کیا گیا تھا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس آج (بروز ہفتہ) سہ پہر 3 بجے ہوگا۔

اجلاس میں علی امین گنڈاپور کے خلاف عدم اعتماد تحریک پیش کی جانی تھی، گورنر فیصل کریم کنڈی کی جانب سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ منظور نہ کرنے پر اسمبلی کا اجلاس بلایا گیا تھا۔

یاد رہے کہ علی امین گنڈاپور نے بطور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، جس کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ نامزد کیا گیا تھا۔

گورنر فیصل کریم کنڈی کی جانب سے کہا گیا تھا کہ انہیں تاحال استعفیٰ موصول نہیں ہوا، جس کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت نے صوبائی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے علی امین گنڈاپور کو ہٹاکر نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب عمل میں لانے کا فیصلہ کیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: تحریک عدم اعتماد علی امین گنڈاپور کیا گیا تھا کا فیصلہ کے خلاف

پڑھیں:

پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ تحریک انصاف کے بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے۔

جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں بات کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے فارم 47 والے بیانیے کو مانا ہے اس کے بعد پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ وہ تمام عہدوں سے استعفے دے اور ہمارے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھے۔

پروگرام میں شریک پیپلز پارٹی کے رہنما سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم مسلم لیگ ن کے ساتھ پاکستان کی خاطر حکومت میں بیٹھے ہیں۔

 ن لیگ کے بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ پیپلز پارٹی ان کے ساتھ ہی رہے گی اور اسی تنخواہ پر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ چلتے رہيں گے۔

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن