مذہبی جماعت کے احتجاج میں بہت سے اہلکار لاپتہ ہیں: فیصل کامران
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
مذہبی جماعت کے احتجاج میں بہت سے اہلکار لاپتہ ہیں: فیصل کامران WhatsAppFacebookTwitter 0 11 October, 2025 سب نیوز
لاہور(سب نیوز ) ڈی آئی جی آپریشنزلاہور فیصل کامران نے کہا ہے کہ مذہبی جماعت کی کارروائیوں سے بہت سے اہلکار لاپتہ ہیں۔صوبائی دارالحکومت کے ڈی جی پی آر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل کامران کا کہنا تھا کہ ایک مذہبی جماعت لاہور میں پرتشدداحتجاج کررہی ہے، مذہبی جماعت کے احتجاج میں سیکڑوں پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
انہوں نے دورانِ گفتگو یہ انکشاف بھی یا کہ مذہبی جماعت کی کارروائیوں سے بہت سے اہلکار لاپتہ ہیں، ملک جب بھی ترقی کرتا ہے ایک پرتشدد گروہ سامنے آجاتا ہے، ہم نے کسی بھی موقع پر مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے۔ڈی آئی جی آپریشنز کا مزید کہنا تھا کہ شہریوں کی حفاظت کیلئے پولیس اپنا کام کرتی رہے گی، پرتشدد مظاہرین نے تھانوں پر بھی حملے کیے،اس مذہبی جماعت کا غزہ معاملے پر احتجاج کا کوئی جواز نہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارت کے بیانات اس بات کی شہادت ہے وہ دوبارہ کوئی ایڈونچر کرے گا: وزیردفاع بھارت کے بیانات اس بات کی شہادت ہے وہ دوبارہ کوئی ایڈونچر کرے گا: وزیردفاع گورنر ہا ئوس خیبر پختونخوا کو گنڈا پور کا استعفی موصول، فوری منظوری سے معذرت خون کا حساب لینے کے لیے افغانستان میں داخل ہونا ہمارا حق ہے: خواجہ آصف نئی دہلی میں طالبان ملاقات کے دوران جھنڈے غائب، بھارت کے سفارتی آداب پر سوال اٹھ گئے وزیرخزانہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاسوں میں شرکت کیلئے امریکا روانہ سعودی عرب اور چین کی مدد سے پاکستان میں توانائی کے اہم منصوبوں کا آغازCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: فیصل کامران
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔