ملک بھر میں شادیوں کی تقریبات سے ٹیکس وصولیوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
کراچی:
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بتایا ہے کہ ملک میں شادیوں کی تقریبات سے ٹیکس وصولیوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے کیونکہ ملک گیر سطح پر شادیوں کی تقریبات سے ود ہولڈنگ ٹیکس وصولی کو یقینی بنانے پر زیادہ توجہ دیا گیا ہے۔
ایف بی آر کی دستاویز کے مطابق مالی سال 25-2024 میں شادیوں پر ودہولڈنگ ٹیکس کٹوتی میں 19 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ ایونٹ مینجمنٹ سیکٹر میں دستاویزی عمل بڑھ رہا ہے اور مالی سال 2025 میں شادیوں پر ودہولڈنگ ٹیکس وصولی 2 ارب 2 کروڑ روپے رہی۔
دستاویز کے مطابق گزشتہ مالی سال شادیوں پر ودہولڈنگ ٹیکس کی مد میں 50کروڑ روپے کے اضافے سے ایک ارب 70 کروڑ روپے کی وصولیاں ہوئیں، اس اضافے کی بڑی وجہ ایف بی آر کی سخت نگرانی ہے۔
ایف بی آر نے بتایا کہ تین بڑے شہروں کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں شادیوں پر اخراجات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، انکم ٹیکس آرڈیننس مجریہ 2001 کی سیکشن 236 سی بی کے تحت ایف بی آر ریونیو وصول کر رہا ہے۔
مزید بتایا گیا کہ قانون کے تحت شادی ہالز، مارکیز، ہوٹلوں سے یہ ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، ریسٹورنٹس، کلبز یا کمیونٹی سینٹرز میں ہونے والی تقریبات سے ایڈوانس ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔
دستاویز کے مطابق تقریبات میں کھانے پینے، سجاوٹ اور دیگر متعلقہ خدمات پر بھی ٹیکس وصولیاں شامل ہیں۔
مزید بتایا گیا کہ فعال ٹیکس لسٹ میں شامل افراد پر 10فیصد ٹیکس عائد ہے جبکہ نان فائلرز کی شادی تقریبات پر 20فیصد ودہولڈنگ ٹیکس لاگو ہے، یہ ٹیکس فائلرز کی سالانہ ٹیکس ذمہ داری کے ساتھ ایڈجسٹ کیا جاسکتا ہے۔
ایف بی آر حکام کے مطابق شادیوں کی تقریبات پر توجہ دینے کا مقصد غیر دستاویزی شعبوں کو دستاویزی بنانا ہے اور یہ شعبہ بڑے پیمانے پر آمدن کا ذریعہ ہے لیکن اکثریت ٹیکس نیٹ سے باہر رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ شادیوں میں پرتعیش اخراجات کے تناظر میں یہ شعبہ حکومت کے لیے محصولات بڑھانے کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شادیوں کی تقریبات ودہولڈنگ ٹیکس تقریبات سے میں شادیوں شادیوں پر ایف بی آر کے مطابق
پڑھیں:
ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
قومی اقتصادی سروے 26-2025 میں رپورٹ کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں سمیت دیگر جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور مالی سال 26-2025 میں لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔
قومی اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی جو سالانہ 1.9 فیصد اضافہ ہوا اور خچروں کی تعداد 1.8 فیصد اضافے کے بعد دو لاکھ 21 ہزار ہوگئی ہے۔
سروے میں بتایا گیا کہ گھوڑوں کی تعداد میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 3 لاکھ 86 ہزار تک پہنچ گئی ہے، ملک میں رواں مالی سال کے دوران بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ سے تجاوز کرگئی اور سالانہ 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسی طرح گائے کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی ہے جو 3.8 فیصد اضافہ ہے، بکریوں کی تعداد 9 کروڑ 18 لاکھ سے بڑھ گئی اور سالانہ 2.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
قومی اقتصادی سروے میں مزید بتایا گیا کہ ملک میں بھیڑوں کی تعداد 1.2 فیصد بڑھ کر 3 کروڑ 35 لاکھ سے زائد ہوگئی ہے، اونٹوں کی تعداد میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 11 لاکھ 93 ہزار ہوگئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال ماہی گیری کے شعبے میں 1.7 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔