مریم نواز کا پنجاب میں ٹیکس فری سعودی انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
مریم نواز کا پنجاب میں ٹیکس فری سعودی انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کرنے کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 11 October, 2025 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )پنجاب کی وزیراعلی مریم نواز نے صوبے میں ٹیکس فری خصوصی سعودی انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کرنے کا اعلان کردیا۔لاہور میں وزیراعلی پنجاب مریم نواز سے پاک-سعودی بزنس فورم کے چیئرمین منصور بن محمد بن سعد آل سعود کی سربراہی میں وفد نے ملاقات کی جہاں سعودی وفد کو حکومت پنجاب کے نمایاں اقدامات اور پراجیکٹس پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
سعودی وفد نے پنجاب میں عوامی فلاح و بہبود کے پراجیکٹس کو قابل تحسین قرار دیا جبکہ وزیراعلی مریم نواز نے پنجاب میں سرمایہ کاری کے وسیع تر مواقع سے بھی آگاہ کیا اور سعودی وفد کے شرکا نے صوبیمیں لائیواسٹاک، کان کنی، انفرا اسٹرکچر، میٹ،آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں اظہار دلچسپی کیا۔وزیراعلی مریم نواز نے پنجاب میں خصوصی سعودی انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کرنے کا اعلان کیا، سعودی انڈسٹریل اسٹیٹ میں 10سالہ ٹیکس ہالی ڈے، 10سالہ انکم ٹیکس استثنی اور سعودی عرب کے لیے اسپیشل اکنامک زون میں ون ٹائم کسٹم ڈیوٹی استثنی بھی دیا جائے گا اور سعودی انڈسٹریل اسٹیٹ کے لیے وزیراعلی آفس میں خصوصی فاسٹ ٹریک بھی قائم کیا جائے گا۔
وفد کو پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کی مکہ میں المشہر اور المقدسہ میٹروٹرین آپریٹ کے لیے سروسز فراہم کرنے کی پیش کش کی گئی۔مریم نواز نے کہا کہ سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے زیرو ٹائم ٹو سٹارٹپالیسی پر عمل پیرا ہیں، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدہ حرمین و شریفین کے تحفظ کے غیر متزلزل عزم کا مظہر ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے، سعودی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کریں گے، اسپیشل اکنامک زون میں انرجی، ایگریکلچر، مائنز، ٹورازم اور لاجسٹک سمیت دیگر شعبے میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں اور پنجاب کے 12 کروڑ عوام سعودی بھائیوں کی شراکت داری کے لیے پرجوش ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کی نوجوان اور ہنر مند افرادی قوت زراعت، صنعت اور آئی ٹی میں سعودی شراکت داری کی منتظر ہے، سرمایہ کاری کے لیے پنجاب کی واضح پالیسی تاخیر نہیں، فوری ڈلیوریہے۔مریم نوا ز نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین ترجیحی شعبوں میں مشترکہ ورکنگ گروپس تشکیل د یے جائیں، واضح اہداف کے تحت 30، 60 اور 90 روزہ لائحہ عمل کے ذریعے پاک-سعودی عملی شراکت داری کو فروغ دیا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا پہلا بزنس سینٹرل ڈسٹرکٹ لاہور میں بنا رہے ہیں، پاکستان اہل سعودی عرب کا دوسرا ملک ہے۔اس موقع پر چیئرمین پاک- سعودی بزنس کونسل منصور بن محمد بن سعد آل سعود نے کہا کہ پاکستان بردار ملک ہے،اشتراک کار خوش قسمتی ہوگی، پاکستان میں سرمایہ کاری ہی نہیں بلکہ اپنے پاکستانی بھائیوں کی مدد اور معاونت کے لیے آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں شان دار میزبانی اور خیر مقد م کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہیں، پاکستان سعودی عرب کے ٹاپ تھری پارٹنرز میں شامل ہے۔سعودی وفد نے کہا کہ پنجاب کے مائننگ کے مواقع کا بھر پورجائزہ لیں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپیوٹن کی نوبل امن انعام کمیٹی پر شدیدتنقید، عالمی بحرانوں کے حل کیلئے ٹرمپ کی کوششوں کی تعریف پیوٹن کی نوبل امن انعام کمیٹی پر شدیدتنقید، عالمی بحرانوں کے حل کیلئے ٹرمپ کی کوششوں کی تعریف وزیراعلی خیبرپختونخوا کا انتخاب: پی ٹی آئی اراکین حمایت کیلئے جے یو آئی مرکز پہنچ گئے نائب وزیراعظم کا ایرانی وزیرخارجہ سے رابطہ، مصر میں ہونے والے سربراہی اجلاس پر مشاورت مذہبی جماعت کے احتجاج میں بہت سے اہلکار لاپتہ ہیں: فیصل کامران بھارت کے بیانات اس بات کی شہادت ہے وہ دوبارہ کوئی ایڈونچر کرے گا: وزیردفاع گورنر ہا ئوس خیبر پختونخوا کو گنڈا پور کا استعفی موصول، فوری منظوری سے معذرتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سعودی انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کرنے کا اعلان سرمایہ کاری کے سعودی عرب کے مریم نواز نے سعودی وفد اور سعودی نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔
کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔
او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔