پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان آئی ٹی اور کھیلوں میں تعاون کے معاہدے
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
پاکستان اور سعودی عرب نے نوجوانوں کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اور کھیلوں کے شعبوں میں تعاون بڑھانے اور مواقع پیدا کرنے پر اتفاق کر لیا۔ اس سلسلے میں جمعہ کو کراچی میں دو اہم یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی پاک جوائنٹ بزنس کونسل کے وفد کی لاہور آمد، وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے پرتپاک استقبال
معاہدوں پر دستخط کی تقریب گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری اور سعودی شہزادہ منصور بن محمد آل سعود کی موجودگی میں ہوئی۔
اس موقع پر سعودی سفیر نواف سعید المالکی، قونصل جنرل محمد عبداللہ السبیعی، پاکستان کے سعودی عرب میں سفیر احمد فاروق اور دونوں ممالک کے وفود کے اراکین شریک تھے۔
تقریب کے دوران دونوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ نوجوانوں کو کھیل اور آئی ٹی تعلیم کے شعبے میں زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ عالمی سطح پر نمایاں کردار ادا کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی وژن 2030 سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں، سعودی سرمایہ کاروں کا خیر مقدم، وزیرِ خزانہ
گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے اس موقع پر کہا کہ تعلیم، ٹیکنالوجی اور کھیل کے فروغ سے ہی قوم کا مستقبل روشن ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور سعودی عرب کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان جلد ایک دوستانہ میچ بھی منعقد کیا جائے گا۔
دورے کے اختتام پر گورنر سندھ نے شہزادہ منصور بن محمد آل سعود اور وفد کو کراچی ایئرپورٹ پر الوداع کہا۔ شہزادہ منصور نے گورنر سندھ کی میزبانی اور گرمجوشی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کی کاوشوں کو سراہا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان سعودی سفیر نواف سعید المالکی سعودی عرب شہزادہ منصور بن محمد آل سعود کامران ٹیسوری گورنر سندھ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان سعودی سفیر نواف سعید المالکی کامران ٹیسوری گورنر سندھ گورنر سندھ اور سعودی
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔