آخری البم میری موت کے بعد ریلیز کیا جائے گا: ایڈ شیرن
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
مشہور برطانوی گلوکار ایڈ شیرن نے ایک حیران کن انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اُن کا آخری میوزک البم اُن کی موت کے بعد ریلیز کیا جائے گا۔
ایک حالیہ انٹرویو میں گفتگو کے دوران 34 سالہ گلوکار نے کہا کہ وہ اپنی زندگی کے بعد بھی موسیقی کی دنیا سے جڑے رہنا چاہتے ہیں۔
ایڈ شیرن نے بتایا کہ میں نے اپنی آخری البم کی تیاری اور ریلیز کا مکمل انتظام اپنی وصیت میں درج کردیا ہے، یہ البم میری موت کے بعد ریلیز ہوگی اور اس کی تکمیل کی ذمہ داری میری اہلیہ چیری سیبورن کے سپرد کی گئی ہے۔
ایڈ شیرن نے کہا کہ یہ البم میری وصیت کا حصہ ہے، اگر میں کل نہ رہوں تو چیری اس کے گانے منتخب کرے گی، یہ سب کچھ مکمل طور پر طے کیا جا چکا ہے۔
گلوکار کے مطابق اس پوسٹ ہومس (وفات کے بعد) البم میں میرے وہ تمام گانے شامل ہوں گے جو میں نے 18 سال کی عمر سے لے کر اپنی زندگی کے آخری دنوں تک لکھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے لوگ شاید میرے اس فیصلے کو پسند نہ کریں، مگر میرے مداحوں کو یہ چیز بہت دلچسپ لگے گی۔
یاد رہے کہ ایڈ شیرن کا تازہ ترین البم Play رواں سال 12 ستمبر کو ریلیز کیا گیا تھا، جسے عالمی سطح پر بے حد پذیرائی ملی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔