کراچی:

اداکارہ اور میزبان فضا علی نے پاکستان کے پہلے رئیلٹی ڈیٹنگ شو ’لازوال عشق‘ کے بولڈ فارمیٹ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے پروگرام ہماری معاشرتی اقدار کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

’لازوال عشق‘ یوٹیوب پر نشر کیا جا رہا ہے اور اپنے غیر روایتی انداز کی وجہ سے سوشل میڈیا پر شدید عوامی ردعمل کا باعث بنا ہوا ہے۔ یہ شو ترکیہ کے ایک ولا میں ریکارڈ کیا گیا ہے، جس میں چار لڑکے اور چار لڑکیاں ایک ہی چھت کے نیچے ’اپنا ہمیشہ کا پیار‘ تلاش کرنے کے مشن میں شریک ہیں۔ پروگرام کی میزبانی معروف اداکارہ عائشہ عمر کر رہی ہیں۔

فضا علی نے ایک گفتگو کے دوران کہا کہ اب ڈیٹنگ اور فحاشی کو ایک مہذب انداز میں پیش کیا جا رہا ہے جیسے یہ کوئی عام بات ہو۔ ان کے مطابق، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ایسے شوز کے ذریعے نوجوان نسل کو غلط سمت میں متاثر کیا جا رہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ لوگ ان چیزوں کو دیکھ رہے ہیں، سیکھ رہے ہیں اور ان کی نقل کر رہے ہیں۔ "ہم اپنی بیٹیوں کو یہ سکھا رہے ہیں کہ وہ دوسروں کو بتائیں کہ ڈیٹ کیسے کی جاتی ہے، کیا یہ درست ہے؟ کیا اس سے عزت میں اضافہ ہوتا ہے؟"

فضا علی کے اس مؤقف کو سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے سراہا ہے۔ عوام نے ان کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پروگرام پاکستانی معاشرے کی روایات اور اخلاقی اقدار کے خلاف ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فضا علی رہے ہیں

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری