کراچی:

پاکستان اور سعودی عرب کے مابین گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری اور سعودی شہزادہ منصور بن محمد آل سعود کی موجودگی میں آئی ٹی ایجوکیشن اور اسپورٹس کے فروغ سے متعلق دو اہم یادداشتوں پر دستخط ہوگئے۔

یہ یادداشتیں پاکستان اور مملکتِ سعودی عرب کے درمیان نوجوانوں کی ترقی، ٹیکنالوجی کے فروغ اور کھیلوں کے شعبے میں تعاون کے نئے دور کا آغاز ہیں۔

تقریب میں سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی، کراچی میں سعودی قونصل جنرل محمد عبداللہ السبیعی، سعودیہ میں تعینات پاکستانی سفیر احمد فاروق، سعودی وفد کے دیگر اراکین سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات شریک تھیں۔

یادداشتوں کے تحت دونوں ممالک کے درمیان جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم، مشترکہ تربیتی پروگرامز، یوتھ ایکسچینج اور اسپورٹس مقابلوں کے انعقاد کے ذریعے نوجوانوں کو ترقی کے نئے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات تاریخی، برادرانہ اور عوامی محبت پر مبنی ہیں۔ دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ باہمی احترام، تعاون اور اعتماد کے رشتے کو مضبوط کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ٹی اور اسپورٹس میں اشتراک نہ صرف نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارے گا بلکہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔

گورنر سندھ نے عندیہ دیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان جلد ایک دوستانہ میچ منعقد کیا جائے گا جس سے دونوں ممالک کے عوامی روابط میں مزید اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی نوجوان دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں، انہیں جدید تعلیم، تربیت اور سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

گورنر سندھ نے مزید کہا کہ تعلیم، ٹیکنالوجی اور کھیل ہی روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔ گورنر انیشیٹیوز کے تحت نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہے ہیں تاکہ وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ ملک و قوم کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

عالی مرتبت شہزادہ منصور بن محمد آل سعود نے گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کی نوجوانوں کے لیے جاری کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ پاکستان کے نوجوان بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں، انہیں مواقع فراہم کرنے سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید گہرے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب تعلیم، ٹیکنالوجی اور اسپورٹس کے میدان میں پاکستان کے ساتھ اشتراک کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔ شہزادہ منصور بن محمد آل سعود نے گورنر سندھ کی جانب سے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو نئی جہت دینے کی کوششوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔

تقریب کے اختتام پر دونوں ممالک کے نمائندوں نے امید ظاہر کی کہ یہ یادداشتیں نوجوانوں کے لیے ترقی کے نئے دروازے کھولیں گی اور پاکستان و سعودی عرب کے تعلقات کو ایک نئے اور مضبوط دور میں داخل کریں گی۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان اور سعودی عرب کے دونوں ممالک کے اور اسپورٹس گورنر سندھ کہ پاکستان کے درمیان

پڑھیں:

سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد

لندن، لاہور (نمائندہ خصوصی، خصوصی نامہ نگار) سابق گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کے بیٹے انس سرور برطانیہ کے نئے وزیر تجارت مقرر ہوگئے۔ برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے انس سرور کو وزیر تجارت مقرر کر دیا ہے۔ وہ اپنی نئی تقرری کے بعد ہاؤس آف لارڈ کے ممبر بھی بن جائیں گے۔ انس سرور کو برطانیہ کے تینوں ہاؤسز کا ممبر بننے کا منفرد اعزاز بھی حاصل ہو گیا ہے، وہ اس سے پہلے برطانوی سیاست میں مختلف اہم ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔ برطانیہ بھر میں پاکستانیوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت