کئی دہائیوں بعد سردیاں شدید اور طویل ہونے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
اسلام آباد: اقوام متحدہ کی رپورٹ میں ماہرین نے اس بار سردیاں شدید اور طویل ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
میڈیا ذرائع کے کہناہے کہ رپورٹ کے مطابق اس سال کئی دہائیوں بعد سردیاں بہت شدید ہونے کا خدشہ ہے، شدید سرد موسم خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں سیلاب متاثرہ خاندانوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرد موسم کی وجہ سے خریف کی فصلوں کی کٹائی میں طوفانی بارشوں سے رکاوٹیں پیدا ہوسکتی ہیں، بالائی علاقوں میں گلیشیئر جھیل پھٹنے کے خدشات بڑھ سکتے ہیں، دریاؤں میں پانی کی کمی سے آب پاشی کے نظام پر اثر پڑسکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ معمول سے زیادہ سردی موسمی تبدیلی لانینا کی وجہ سے پڑنے کا امکان ہے، لانینا اس وقت بنتا ہے جب بحرالکاہل میں سطح سمندر کا درجہ حرارت غیر معمولی طور پر کم ہو جاتا ہے، یہی لالینا دنیا بھر کے موسم پر اثرانداز ہوتا ہے
.
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
افغانستان تباہی کے دہانے پر! UNDP کی ہولناک رپورٹ نے طالبان کی ناکامی بے نقاب کر دی
پاکستان کی سخت سرحدی پالیسیوں اور واپسی کے فیصلوں کے بعد افغانستان شدید معاشی اور انتظامی بحران کا شکار ہے۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 میں 23 لاکھ سے زائد افغان شہریوں کی وطن واپسی نے پہلے سے کمزور معیشت پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان میں غربت، بےروزگاری اور بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی نے حالات کو نہایت سنگین بنا دیا ہے، جبکہ افغان طالبان داخلی مسائل حل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔
خواتین کے لیے محدود رسائی، پابندیاں اور سکیورٹی خطرات نے انہیں سب سے زیادہ متاثرہ طبقہ بنا دیا ہے۔
UNDP کا کہنا ہے کہ بدترین معاشی صورتحال، غیر مستحکم گورننس اور داخلی بدانتظامی نے ملک کو شدید عدم استحکام کی طرف دھکیل دیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارتی سرمایہ کاروں کو خصوصی رعایت دینے کے طالبان حکومت کے فیصلے نے افغانستان کے مستقبل اور خودمختاری سے متعلق کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق داخلی بحران، کمزور ادارے اور بڑھتی غربت طالبان حکومت کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان بن چکے ہیں، جب کہ ملک مسلسل اقتصادی اور سماجی زوال کی طرف بڑھ رہا ہے۔