بیلجیم میں قومی ہڑتال سے برسلز مفلوج، فضائی و زمینی نظام درہم برہم
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برسلز: بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں ملک گیر ہڑتال کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے جب کہ ہزاروں مظاہرین نے حکومت کی کفایت شعاری پالیسیوں اور مہنگائی کے خلاف شدید احتجاج کیا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک لاکھ سے زائد مظاہرین مختلف مقامات پر جمع ہوئے، جس کے نتیجے میں برسلز کا بیشتر حصہ مفلوج ہو گیا، قومی ہڑتال کے دوران ہوائی سفر، پبلک ٹرانسپورٹ، اسکولوں اور سرکاری دفاتر میں شدید خلل پڑا۔
برسلز ایئرپورٹ انتظامیہ کے مطابق ہڑتال کے باعث تمام روانگی کی پروازیں اور نصف سے زائد آمد کی پروازیں منسوخ کر دی گئیں، عام دنوں میں مصروف رہنے والا روانگی ہال ویران پڑا رہا۔
اعداد و شمار کے مطابق 48 ہزار مسافر متاثر ہوئے، جن میں سے 33 ہزار کو روانہ ہونا تھا جبکہ 15 ہزار برسلز پہنچنے والے مسافر تھے۔ صرف 17 ہزار مسافروں پر مشتمل چند پروازوں کو اترنے کی اجازت ملی۔
یہ رواں سال کا چھٹا موقع ہے جب برسلز ایئرپورٹ صنعتی احتجاج کے سبب متاثر ہوا، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 2.
ہڑتال کے دوران پبلک ٹرانسپورٹ سروسز بھی بری طرح متاثر ہوئیں۔ شہر میں صرف محدود میٹرو، ٹرام اور بس لائنیں ہی چل سکیں۔ فلینڈرز (De Lijn) اور والونیا (TEC) کے ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس بھی معطل رہے۔
والونیا کے علاقے میں تقریباً 64 فیصد شیڈول شدہ روٹس منسوخ کر دیے گئے، جبکہ لیژ-ورویئرز نیٹ ورک خاص طور پر متاثر ہوا۔
صورتحال اس وقت مزید خراب ہو گئی جب برسلز کے مرکزی علاقے کے متعدد سرنگیں، جن میں اینی کورڈی، بوٹانیک اور روژیر ٹنلز شامل ہیں، ایک معمولی آگ لگنے کے باعث عارضی طور پر بند کر دی گئیں، جس سے ٹریفک جام مزید بڑھ گیا۔
یہ ملک گیر احتجاج ٹریڈ یونینز کی جانب سے حکومت کی کفایت شعاری، اجرتوں کی پالیسی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف بلایا گیا تھا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت کی پالیسیوں نے متوسط اور محنت کش طبقے کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، لہٰذا اجرتوں میں فوری اضافے اور عوام دوست اقتصادی اقدامات کی ضرورت ہے۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہڑتال کے
پڑھیں:
کینیڈا میں تعلیم کے خواہش مند طلبا کیلیے خوشخبری؛ اسٹڈی پرمٹ کا نیا نظام نافذ
کینیڈا نے غیرملکی طلبا کے لیے اسٹڈی پرمٹ پالیسی میں نمایاں اور قابل زکر تبدیلیاں کردیں جسے 4 لاکھ 8 ہزار طلبا مستفید ہوسکتے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق کینیڈا نے آئندہ برس 2026 کے لیے اسٹڈی ویزا کے لیے نئی پالیسی کے نفاذ کا اعلان کردیا۔
اس پالیسی کے تحت میں اسٹڈی پرمٹس کی مجموعی تعداد میں کم کر دی جائے گی جو ملک میں عارضی رہائشیوں کی شرح کو کم کرنے کے سرکاری منصوبے کا حصہ ہے۔
کینیڈا کے امیگریشن حکام نے بتایا کہ اس پالیسی کے تحت 4 لاکھ 8 ہزار غیر ملکی طلبا کو خیر مقدم کریں گے جن میں ایک لاکھ 55 ہزار نئے جب کہ 2 لاکھ 53 ہزار موجودہ یا واپس آنے والے طلبا ہوں گے۔
یہ تعداد کینیڈا میں رواں برس یعنی 2025 کے مقابلے میں 7 فیصد اور 2024 کے مقابلے میں 16 فیصد تک کم ہے۔
کینیڈا کے امیگریشن حکام نے مزید بتایا کہ یہ کمی بین الاقوامی اسٹوڈنٹ پروگرام کو متوازن اور قومی ضروریات کے مطابق رکھنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
غیر ملکی طلبا جو ماسٹرز یا پی ایچ ڈی کے لیے کینیڈا آئیں گے انھیں یکم جنوری 2026 سے ایک اور اہم سہولت متعارف کرائی گئی ہے۔
سرکاری تعلیمی اداروں میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کرنے والے غیر ملکی طلبا کو PAL یا TAL لیٹر کے بغیر ہی اسٹڈی پرمٹ کے لیے درخواست دینے کی اجازت ہوگی۔
جس سے تقریباً 49 ہزار طلبا براہ راست فائدہ اٹھائیں گے جس کا مقصد تحقیقی میدان اور ملکی جدّت کو فروغ دینا ہے۔