چین کی معاشی برتری کا توڑ، امریکا کا مختلف صنعتوں میں قیمتوں کی کم از کم حد مقرر کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ امریکا چین کی جانب سے عالمی منڈی میں پیدا کی جانے والی غیر منصفانہ معاشی برتری کا توڑ کرنے کے لیے متعدد صنعتی شعبوں میں قیمتوں کی کم از کم حد (Price Floors) مقرر کرے گا تاکہ امریکی صنعتوں کو نقصان سے بچایا جا سکے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق انویسٹ ان امیریکا فورم سے خطاب کرتے ہوئے اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ جب کسی غیر منڈیاتی معیشت (Non-Market Economy) جیسے چین کا سامنا ہو، تو صنعتی پالیسی کے ذریعے ہی توازن قائم کیا جا سکتا ہے، چین نے گزشتہ دو دہائیوں میں نایاب معدنیات (Rare Earths) کی عالمی منڈی میں اپنی اجارہ داری قائم کر کے قیمتیں غیر معمولی حد تک کم کیں، جس کے نتیجے میں کئی غیر ملکی کمپنیاں بند ہو گئیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اب امریکا نہ صرف قیمتوں کی کم از کم حد مقرر کرے گا بلکہ مستقبل کی خریداری کے معاہدے (Forward Buying Agreements) بھی کرے گا تاکہ دوبارہ ایسی صورتِ حال پیدا نہ ہو۔ بیسنٹ نے کہا کہ یہ اقدامات متعدد شعبوں میں کیے جائیں گے۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ امریکا کو ایک اسٹریٹجک منرل ریزرو قائم کرنے کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے لیے جے پی مورگن چیس نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کی خواہش ظاہر کی ہے۔
نایاب زمینی معدنیات (Rare Earth Magnets) امریکی دفاعی نظام کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہیں، کیونکہ یہ اسمارٹ بموں، ٹوماہاک میزائلز اور ایف-35 جنگی طیاروں میں استعمال ہوتی ہیں۔ اسی لیے امریکی حکومت حالیہ برسوں میں چین پر انحصار کم کر کے مقامی پیداوار بڑھانے کے اقدامات کر رہی ہے۔
جولائی میں امریکا کی سب سے بڑی نایاب معدنیات کی کان کنی کرنے والی کمپنی ایم پی میٹیریلز اور محکمہ دفاع کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس میں قیمتوں کی کم از کم حد اور سرکاری سرمایہ کاری شامل ہے۔
اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ چین کی جانب سے نایاب معدنیات کی برآمدات پر نئی پابندیوں کے بعد امریکا دیگر کمپنیوں کے ساتھ بھی اسی نوعیت کے معاہدے کر سکتا ہے، جب چین نایاب معدنیات پر پابندیاں بڑھاتا ہے تو یہ احساس ہوتا ہے کہ ہمیں خود کفیل ہونا ہوگا یا اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر وسائل محفوظ بنانے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ غیر اسٹریٹجک شعبوں میں سرمایہ کاری سے گریز کرے گی تاکہ پالیسی کے دائرے سے تجاوز نہ ہو۔
خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے چین نے نایاب معدنیات کی برآمدات پر نئی پابندیاں عائد کی تھیں، جس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے 100 فیصد ٹیکس (ٹیرف) لگانے کی دھمکی دی تھی۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: قیمتوں کی کم از کم حد نایاب معدنیات بیسنٹ نے کہا نے کہا کہ
پڑھیں:
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی تجویز
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی تجویز سامنے آگئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اعلان کردیا
میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت کو پیٹرول سستا کرنے کی سمری بھجوا دی گئی ہے جس میں پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 70 پیسے کم کرنے کی تجویز شامل ہے۔ منظوری کی صورت میں پیٹرول کی قیمت 265.45 روپے سے کم ہو کر 261.75 روپے رہ جائے گی۔
اسی طرح ایک لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل 4 روپے 28 پیسے سستا کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ منظوری ملنے کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 284.44 روپے سے کم ہو کر 280.16 روپے ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی ممکنہ قلت کے خدشات پر اوگرا نے وضاحت کردی
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک لیٹر مٹی کا تیل 73 پیسے اور لائٹ اسپیڈ ڈیزل 6 روپے 35 پیسے کم کرنے کی تجویز بھی سمری میں شامل ہے۔
نئی قیمتوں پر عمل درآمد ایکم دسمبر 2025 سے متوقع ہے
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اوگرا پاکستان پیٹرول ڈیزل وفاقی حکومت