پنجاب: دفعہ 144 میں توسیع‘ 30 ٹی ایل پی کارکنوں کا 11 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
لاہور؍ حافظ آباد (نامہ نگار +خبر نگار+ نیوز رپورٹر+ نمائندہ نوائے وقت) انسداد دہشتگری عدالت کے جج عرفان حیدر نے تحریک لبیک کے 30 کارکنوں کو 11 دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا ۔ تفتیشی افسر نے موقف اپنایا کہ مذہبی جماعت کے کارکنوں نے تھانہ شاہدرہ پر حملہ کیا، 20 پولیس اہلکاروں سمیت 44 افراد کو زخمی ہوئے۔ مشتعل ملزمان تھانہ شاہدرہ پر فائرنگ بھی کرتے رہے اور پولیس سٹیشن کے سامنے کھڑی گاڑیوں کو جلا دیا، علاوہ ازیں حافظ آباد سٹی پولیس نے جھاریانوالہ کے قریب مبینہ طو رپر غیر قانونی ریلی نکال کر نعرہ بازی کرنے اور فائرنگ کے الزام میں تحریک لبیک کے سابق امیدوار صوبائی اسملی عثمان خظرمانگٹ سمیت 25 سے زائد ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا علاوہ ازیں حکومت پنجاب نے صوبہ بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں 7 یوم کی توسیع کر دی۔ لاہور سے گرفتار افراد کی تعداد685 ہوگئیمحکمہ داخلہ پنجاب کے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق پنجاب میں ہر قسم کے احتجاج، جلسے، جلوس، ریلیوں، دھرنوں، اجتماع اور ایسی تمام سرگرمیوں پر جمعہ 24 اکتوبر تک دفعہ 144 کے تحت پابندی میں توسیع کی گئی ہے۔ ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب نے بتایا کہ دفعہ 144 کے تحت چار یا زائد افراد کے عوامی مقامات پر جمع ہونے پر مکمل پابندی ہوگی۔ اسی طرح پنجاب بھر میں ہر قسم کے اسلحہ کی نمائش پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔