انوپم کھیر کی بھائی راجو کھیر سے تعلقات اور خاندانی مسائل پر لب کشائی
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
ممبئی (شوبز ڈیسک) —بالی ووڈ کے سینئر اداکار انوپم کھیر نے پہلی بار اپنے چھوٹے بھائی راجو کھیر سے تعلقات اور خاندان کے اندر موجود مسائل پر کھل کر بات کی ہے۔
یوٹیوب چینل “زندگی وِد رچا” پر خصوصی گفتگو کے دوران “کچھ کچھ ہوتا ہے” کے اداکار نے بتایا کہ وہ نہ صرف اپنے بھائی بلکہ اپنے خاندان کی مالی مدد بھی کرتے رہے ہیں۔
انوپم کھیر نے اپنے اور راجو کے درمیان بھائی چارے کے رشتے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اگر ہر بھائی یہ یاد رکھے کہ وہ بچپن میں ایک دوسرے کے ساتھ کیسے تھے، تو کسی بھی خاندان میں لڑائی نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا، “میں اپنی زندگی کو ایک فلم کی طرح دیکھتا ہوں۔ میں کیسے بھول سکتا ہوں کہ ہم ایک ساتھ بڑے ہوئے؟”
اداکار نے اپنی اہلیہ کرن کھیر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی ان کے خاندانی معاملات میں مداخلت نہیں کی۔ “میں کرن کی تعریف کرنا چاہتا ہوں کیونکہ انہوں نے کبھی مجھ سے نہیں پوچھا کہ ‘تم اپنے بھائی کے لیے اتنا کیوں کرتے ہو؟’، یہی وہ جگہ ہے جہاں سے مسائل شروع ہوتے ہیں۔”
انوپم نے مزید بتایا کہ وہ اکثر اپنے بھائی کے لیے چیک پر دستخط کرتے تھے۔ “میں نے اپنے مینیجر سے بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ زندگی میں ایک بات یاد رکھنا — مجھ سے کبھی یہ مت پوچھنا کہ میں اپنے بھائی کو کتنے پیسے دیتا ہوں۔”
70 سالہ اداکار نے یہ بھی واضح کیا کہ اگرچہ ان کا بھائی راجو کھیر بھی اسی انڈسٹری سے وابستہ ہے، مگر اس نے کبھی ان کی کامیابی سے حسد نہیں کیا۔
پیشہ ورانہ محاذ پر، انوپم کھیر کو حال ہی میں فلم “تنوی دی گریٹ” میں دیکھا گیا، جو جولائی 2025 میں ریلیز ہوئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اپنے بھائی
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔