اداکار یاسر حسین نے انکشاف کیا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کبیر کی بہتر پرورش کے لیے ڈیفنس میں موجود اپنی رہائش چھوڑ کر دوسرے علاقے میں منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔

یاسر حسین نے حال ہی میں زارا نور عباس کے یوٹیوب پروگرام میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنے بیٹے کبیر کے کھیلنے کے شوق اور بچوں کی موجودہ عادات پر تفصیل سے بات کی۔

ان کے مطابق ان کا بیٹا پرانے خیالات کا ہے اور اسے کھیلوں کا بہت شوق ہے۔

اداکار کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے کبیر کو کھیلنے کا بہت شوق ہے اور وہ ہر وقت کھیلنے کی طرف مائل رہتا ہے، جب کہ آج کل کے زیادہ تر بچے زیادہ تر وقت موبائل استعمال کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور کھیل کود میں کم دلچسپی لیتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ پہلے ڈیفنس میں رہائش پذیر تھے، جہاں بچوں کا آپس میں تعلق اتنا مضبوط نہیں ہوتا جتنا دیگر علاقوں میں ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈیفنس کے بچے بھی کھیلتے ہیں لیکن وہاں گلیوں میں کھیلنے کا رجحان بہت کم ہے، یہی وجہ تھی کہ انہوں نے وہاں سے دوسری جگہ منتقل ہونے کا فیصلہ کیا تاکہ کبیر کی پرورش ایسے ماحول میں ہو جس طرح کے ماحول میں ان کی پرورش ہوئی تھی۔

یاسر حسین نے بتایا کہ اب ان کا بیٹا محلے کے بچوں کے ساتھ کھیلتا ہے اور اس کے بہت سارے دوست ہیں جو گھر پر بھی کھیلنے آتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب کبیر باہر سے کھیل کر گھر واپس آتا ہے تو وہ پسینے میں شرابور ہوتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے اپنی توانائی بھرپور طریقے سے استعمال کی ہے۔

اداکار نے بچوں کی تربیت میں والدین کے کردار پر بھی زور دیا اور کہا کہ والدین اپنے بچوں کو جو کچھ سکھا سکتے ہیں، وہ کوئی اسکول یا استاد نہیں سکھا سکتا اور بچوں کو اصل تعلیم والدین ہی دے سکتے ہیں کہ کیا اچھا ہے اور کیا برا۔

یاسر حسین اور اقرا عزیز نے دسمبر 2018 میں شادی کی تھی اور دونوں کا شمار مقبول جوڑیوں میں ہوتا ہے، ان کے ہاں جولائی 2021 میں بیٹے کبیر حسین کی پیدائش ہوئی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: یاسر حسین بیٹے کبیر انہوں نے ہوتا ہے ہے اور

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • جےیوآئی کے سینئررہنما حافظ حمداللہ لاپتہ ہوگئے
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان