جدہ سپر ڈوم میں جاری پرفیوم ایکسپو جدہ سیزن کے حصے کے طور پر اپنی شاندار نمائش اور خوشبوؤں کی دنیا میں جدت و ورثے کے امتزاج کے باعث زبردست عوامی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ اس نمائش نے نہ صرف خوشبو کے شوقین افراد کو متوجہ کیا بلکہ پرفیوم انڈسٹری کے ماہرین کے لیے بھی ایک منفرد پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔

11 روزہ یہ تقریب 26 اکتوبر تک جاری رہے گی، جس میں 90 سے زیادہ مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی برانڈز شریک ہیں۔ ایونٹ میں نئی پراڈکٹ لانچز، خصوصی رعایتی آفرز اور انٹرایکٹو تجربات شامل ہیں جن کے ذریعے پرفیوم سازی کے فن اور اس کے تاریخی ورثے کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خاتون کا وزیراعلیٰ پنجاب سے محبت کا انوکھا اظہار، مریم نواز کے نام کا پرفیوم لانچ

شرکا کے لیے مختلف ورکشاپس اور ماہرین سے گفتگو کے سیشنز کا انعقاد بھی کیا گیا ہے، جب کہ ایک انٹرایکٹو فریگرینس لیب میں آنے والے افراد اپنی مرضی کی خوشبو تیار کر سکتے ہیں۔

الگرافی کمپنی کی منیجر بشائر کے مطابق، ہم نے فریگرینس لیب کا انتظام کیا ہے جہاں زائرین 24 دستیاب تیلوں میں سے کسی تین کا انتخاب کر کے اپنی منفرد خوشبو تیار کر سکتے ہیں۔ یہ ایک دلچسپ عملی تجربہ ہے جس سے وہ پرفیوم سازی کے عمل کو سیکھتے ہوئے اپنی پسند کا خوشبودار امتزاج تخلیق کرتے ہیں۔

البیت الاماراتی لاؤڈ کے آپریشن منیجر عمر سلامی نے بتایا کہ نمائش میں عوام کی بڑی تعداد اور صارفین کی بھرپور دلچسپی اس ایونٹ کی کامیابی کا ثبوت ہے۔

ان کے مطابق، ’ہماری کلیکشن میں پرفیومز، ہیئر مِسٹس، باڈی اسپلیشز، عود بخور اور خوبصورت انداز میں تیار کردہ بخور دان شامل ہیں جو سعودی ثقافت اور روایات کی جھلک پیش کرتے ہیں۔‘

عمان کے برانڈ تھوٹس آف دی گلف کے جنرل منیجر ماجد عبداللہ نے کہا کہ سعودی مارکیٹ ان کے لیے ہمیشہ خوش آئند رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہاں کے صارفین ہمیں ہمیشہ گرمجوشی سے خوش آمدید کہتے ہیں، اور ہم ہر سال اس مارکیٹ میں واپس آ کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔

ان کے مطابق، کمپنی کے اسٹال پر تمام عملہ عمانی شہریوں پر مشتمل ہے جو مقامی مہارت اور ثقافتی اصالت کو فروغ دینے کی علامت ہے۔

نمائش میں مقامی سعودی برانڈز بھی نمائش میں نمایاں ہیں۔ کیپٹ کی بانی میادہ مظفر کے مطابق، ’ہم نوجوانوں اور کھیلوں کی ثقافت پر توجہ دیتے ہیں، ہمارے ہر پرفیوم کی اپنی ایک الگ شخصیت ہے جو مختلف مزاج اور طرزِ زندگی کی عکاسی کرتی ہے۔‘

عواض الاکبر کے مارکیٹنگ منیجر خالد احمد نے سعودی معاشرے میں خوشبوؤں کی ثقافتی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ ہم نے عود اور پرفیوم سے آغاز کیا، بعد میں ہاتھ سے بنے بخور دان بھی متعارف کرائے۔ سعودی ثقافت میں پرفیوم محض خوشبو نہیں بلکہ شخصیت اور انفرادیت کی علامت ہے۔

نمائش کے ایک وزیٹر حامد الغربی نے بتایا کہ نوجوان سعودیوں کو پرفیوم کے بارے میں گہری سمجھ ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہم بچپن سے عید اور شادیوں جیسے مواقع پر مختلف عود استعمال کرتے آئے ہیں۔ اس نمائش میں اتنی منفرد اور گہری خوشبوئیں تھیں کہ پسندیدہ کا انتخاب کرنا مشکل ہو گیا۔

نویر پرفیوم کے مینیجر عماد عبدالرحیم کے مطابق یہ نمائش کاروباری افراد کے لیے صارفین کے ذوق و رجحانات سمجھنے کا قیمتی موقع فراہم کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’وِکٹری 47-45‘، ٹرمپ کا نیا پرفیوم متعارف، قیمت کیا ہے، خریدنے والے کیا کہتے ہیں؟

انہوں نے کہاکہ خوشبو کا انتخاب ایک ذاتی سفر ہے۔ کچھ لوگ اپنی مخصوص برانڈ پر قائم رہتے ہیں، جبکہ دوسرے نئی خوشبوؤں کے ذریعے اپنی شخصیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ دریافت کرنے کا عمل ہمیشہ دلچسپ اور بصیرت افروز ہوتا ہے۔

نمائش میں خریداری کے علاوہ مشرقی و مغربی خوشبوؤں کے انٹرایکٹو ڈسپلے، لائیو میوزک اور تفریحی پروگرامز بھی شامل ہیں، جو اس ایونٹ کو ایک رنگا رنگ اور پرجوش ماحول فراہم کر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews ایکسپو جدہ سپر ڈوم خوشبوؤں کی نمائش سعودی ثقافت وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایکسپو جدہ سپر ڈوم خوشبوؤں کی نمائش سعودی ثقافت وی نیوز سعودی ثقافت خوشبوؤں کی کے مطابق کرتے ہیں کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل