Islam Times:
2026-07-24@07:06:41 GMT

اسرائیل کیوں حماس کو شکست نہیں دے سکتا؟

اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT

اسرائیل کیوں حماس کو شکست نہیں دے سکتا؟

اپنی ایک رپورٹ میں امریکی جریدے کا کہنا تھا کہ بندوق کے زور پر کسی نظریے کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ حملوں میں جس قدر شدت آئے گی، اتنا ہی فلسطینی عوام کا نظریہ اور جدوجہد جاری رکھنے کا عقیدہ مضبوط ہوتا چلا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی جریدے نیشنل انٹرسٹ نے فلسطین کی مقاومتی تحریک "حماس" کی دو سالہ جدوجہد کو ان الفاظ میں بیان کیا کہ غزہ کے کھنڈرات سے حماس کے ہزاروں فوجی ابھر رہے ہیں۔ حماس اب بھی باقی ہے اور محض فوجی کارروائیوں سے اس گروہ کو تباہ نہیں کیا جا سکتا۔

فلسطینی معاشرے میں حماس کی گہری جڑیں ہیں
واضح رہے کہ اسرائیلی اہلکار بارہا دعویٰ کر چکے ہیں کہ وہ حماس کو شکست دے سکتے ہیں، لیکن زمینی حقائق کچھ اور بتاتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ حماس، محض ایک عسکری گروہ نہیں، بلکہ ایک سیاسی اور نظریاتی تحریک ہے جو فلسطینی معاشرے میں گہری جڑیں رکھتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسی تحریکوں کے ڈھانچے کو تباہ کیا جا سکتا ہے، ان کے رہنماؤں کو قتل کیا جا سکتا ہے، لیکن ان کے نظریے اور عقیدے کو ہمیشہ کے لئے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ خاص طور پر جب یہ عقیدہ وطن کی محبت اور اپنی زمین کے تحفظ کے لئے فلسطینیوں کی عشروں پر محیط جدوجہد سے متصل ہو۔ نیشنل انٹرسٹ نے زور دے کر کہا کہ مکمل فتح کا صیہونی دعویٰ شروع دن سے ہی محض ایک سراب تھا۔

اس جریدے نے مزید کہا کہ غزہ میں اسرائیل کی جانب سے بڑی تعداد میں عام شہریوں کے قتل اور تباہی پھیلانے کے باوجود، حماس کے قیام کی بنیادی وجوہات اب بھی موجود ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ جب تک یہ حالات برقرار ہیں اور فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کیا جاتا، حماس کی جدوجہد جاری رے گی۔ اس امریکی جریدے نے زور دے کر کہا کہ بندوق کے زور پر کسی نظریے کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ حملوں میں جس قدر شدت آئے گی، اتنا ہی فلسطینی عوام کا نظریہ اور جدوجہد جاری رکھنے کا عقیدہ مضبوط ہوتا چلا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نہیں کیا جا سکتا

پڑھیں:

’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا

معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔

سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔

رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔

رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

        View this post on Instagram                      

 

نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل

سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔

اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔

واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم