Jasarat News:
2026-07-24@03:02:10 GMT

پاکستان میں غربت اور اس کا حل

اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

محسن باقری
عالمی بینک نے پاکستان میں غربت کی رپورٹ شائع کی ہے اس کے مطابق رپورٹ میں جہاں شماریاتی اعداد وشمار 25 برس کے سرکاری گھریلو سرویز نئے اور مختلف ذرائع معلومات استعمال کیے جاتے ہیں اس کے مطابق قومی غربت کی شرح 2001-02 میں 64.

3 فی صد سے مسلسل کم ہو کر 2018-19 میں 21.9 فی صد تک آگئی تھی، 2020 سے دوبارہ بڑھنی شروع ہو گئی۔ اس رپورٹ کے مطابق 40 فی صد بچے غذائی قلت کا شکار ہو کر کمزور ہیں، ایک چوتھائی پرائمری اسکول کے بچے اسکول سے باہر ہیں اور 75 فی صد جو اسکول جاتے ہیں وہ پرائمری کے آخر تک ایک سادہ کہانی پڑھ کر سمجھ نہیں سکتے۔ دیہی علاقوں میں غربت اب بھی شہری علاقوں میں دوگنا سے زیادہ ہے اور کئی اضلاع جو دہائیوں پہلے پیچھے تھے آج بھی وہیں کھڑے ہیں۔ اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان پر قرضوں کا بوجھ خطرناک حد تک بڑھ گیا۔ دس سال قبل پاکستان کا ہر شہری 90 ہزار 47 روپے کا مقروض تھا اور اب پاکستان کا ہر شہری 3 لاکھ 18 ہزار 252 روپے کا مقروض ہے۔

پاکستان میں قطع نظر (ن) لیگ، پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی یا پی ڈی ایم کسی کا بھی دور حکمرانی ہو یا اس سے قبل، ہمیشہ حکمرانوں کی جانب سے شادیانے بجائے جاتے رہے کہ پاکستان معاشی طور سے مستحکم ہو رہا ہے اور آئندہ آنے والے برسوں میں تو خوشحالی کی نوید ہی نوید ہے۔ کبھی پاکستان کے سمندر میں پٹرول کے نئے کنوؤں کی دریافت کی نوید کبھی کسی ملک کے ساتھ تجارتی معاہدوں کی نوید، رہی سہی کسر موجودہ حکمرانوں نے پوری کر دی جو ہر کچھ عرصے بعد اسی بات پر خوشی کے شادیانے بجاتے رہے کہ پاکستان دیوالیہ ہونے سے بچ گیا۔ ٹی وی چینلوں پر متواتر اس بات کا انکشاف کیا جاتا رہا کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح کم ہو گئی جبکہ عام آدمی حیران اور پریشان ہو جاتا تھا کہ یہ کس ملک کی باتیں اور کن حکمرانوں کے چرچے ہو رہے ہیں۔ ہر دوسرے دن روزمرہ استعمال کی چیزیں چاہے وہ آٹا دال چاول ہو یا سبزیاں پھل یا روز مرہ کے استعمال کی گھریلو اشیا، ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ کے مِصداق حقیقی قیمتوں اور مہنگائی کا گراف اوپر ہی جاتا رہا، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چشم کشا حقائق پر مبنی ان رپورٹس کے مطابق صورتحال تو بد سے بدتر کی طرف جاری ہے لیکن حکومتی اعلیٰ ترین عہدیدار نہ جانے کیوں اور کس کو طفل تسلیاں دے رہے ہیں۔ عالمی بینک نے حقائق بیان کرنے کے ساتھ معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کچھ تجاویز بھی دی ہیں وہ اپنی جگہ پر اہمیت کی حامل صحیح لیکن پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہونے کے ناتے کچھ علٰیحدہ پیراؤں میں سوچ بچار کرنا ہوگا اور اس کی بنیاد پر اپنے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ایک ایسے حل کی طرف جانا ہوگا جو صرف ایک خیال ہی نہیں بلکہ علمی اور عملی پیرائے میں حقیقت پسندانہ بھی ہو اور پاکستان کو معاشی طور پر مستحکم اور اپنے پیروں پر عزت نفس کے ساتھ نہ صرف کھڑا کر سکے بلکہ اقوام عالم کے لیے بھی ایک مثال بن کر ترقی کی شاہراہ پر ممتاز اہمیت کا حامل ہو۔ اس حوالے سے ابتدائی طور پر دو جہتوں میں ماہرین کی زیر نگرانی معاشی طور سے مستحکم ہونے کے لیے پیش قدمی کیے بغیر کوئی اور چارہ کار نہیں۔

پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے۔ امریکی محکمہ زراعت (USDA) کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں پاکستان گندم کی پیداوار میں آٹھویں نمبر پر، چاول کی پیداوار میں نویں نمبر پر کپاس اور گنے کی پیداوار میں نمایاں ہے، لیکن اس کے باوجود یہاں غربت، بے روزگاری، محتاجی، بھوک اور افلاس کے ڈیرے ہیں، اس کا سبب ہماری نالائقی، کرپشن اور بد انتظامی کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے؟۔پاکستان کے پاس 79 ملین ہیکٹر زمین ہے اس میں سے تقریباً چوتھائی حصہ زیر استعمال ہے باقی بنجر پڑی ہے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستان اپنے وسائل سے گندم چاول شکر اور اس کی مصنوعات، کاٹن اور اس کی مصنوعات اور دیگر اجناس میں بتدریج اپنی پیداوار بڑھا کر دنیا بھر میں نئی منڈیوں کی تلاش اور تجارت میں وسعت دیتا۔ عرب ممالک خصوصی طور سے سعودی عرب جیسے ملک کو ہدف بناتا جو گندم، جو اور مکئی کی ضروریات امریکا، آسٹریلیا، ارجنٹائین ہندوستان وغیرہ سے پوری کرتا رہا ہے، اسی طرح گوشت اور دیگر مصنوعات ہیں، متعلقہ وزارتوں سفارت خانوں کے کمرشل سیکشن اور تعینات عملہ کا اور کیا مصرف ہے؟۔

دسمبر 2023 کے اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں انفرادی انکم ٹیکس دینے والے افراد 37 لاکھ کے قریب تھے اگر اسے ہی شمار کیا جائے تو اس کے متوازی زکواۃ دینے والوں کی تعداد کا تخمینہ سوا سات کروڑ افراد ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کی مارچ 2023ء میں جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں زکوٰۃ کی مد میں 30 کھرب روپے وصولی کا تخمینہ لگایا گیا ہے، اس رقم سے خط غربت کے نیچے بسنے والے 10 کروڑ افراد کی مدد کی جا سکتی ہے۔ حکومت کے زیر انتظام زکوٰۃ کی مد میں 10 ارب روپے جمع کیے گئے، کہاں 10 ارب روپے اور کہاں 30 کھرب روپے۔ ماہ صیام کا آغاز ہونے سے پہلے بینکوں سے رقوم نکلوانا اس نظام پر عدم اعتماد کا واضح اظہار ہے۔ سود سے پاک معیشت اور نظام زکواۃ اس سب کے لیے درد دل رکھنے والے کچھ کر گزرنے کے لیے قربانی کا جذبہ رکھنے والے پر خلوص ماہرین اور ایسی ہی ٹیم کی ضرورت ہے لیکن اس کے برعکس ہو یہ رہا ہے کہ نا اہل لوگ ہم پر مسلط ہیں، نہ رہے بانس نہ بجے بانسری کے مصداق معاصر روزنامہ جنگ 8 مارچ 2025 کے مطابق صوبہ بلوچستان میں صوبائی محکمہ زکوٰۃ کو ہی ختم کر دیا گیا انہوں نے کہا کہ محکمہ زکوٰۃ بلوچستان سالانہ 30 کروڑ روپے مستحقین میں تقسیم کرتا ہے۔ اس رقم کی تقسیم کے لیے محکمے کے سالانہ 1 ارب 60 کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ تقسیم کے لیے محکمہ زکوٰۃ کے پاس 80 گاڑیاں ہیں، گزشتہ 2 برس سے مستحقین میں زکوٰۃ کی رقم تقسیم نہیں کی گئی۔ اْن کا کہنا تھا کہ 30 کروڑ روپے کی رقم ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے غریبوں میں تقسیم کرائیں گے، یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ اس میں سے بیش تر رقم کا کیا مصرف ہو گا۔

یہ پاکستان کی بد قسمتی ہے کہ جہاں بھی کوئی اچھی مثال قائم کی گئی اس کی پذیرائی تو دور کی بات ہے اسے سیاسی تعصبات کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ صوبہ KP میں جماعت اسلامی کے سینئر وزیر اور وزیر خزانہ سراج الحق کے دور میں ایک ایکٹ کے تحت سودی بینکوں کی نئی برانچ کھولنے پر پابندی لگائی گئی تھی، 26 ہزار لوگوں نے سودی بینکاری چھوڑ کر خیبر بینک میں اسلامی بینکاری کی، اس کا فائدہ یہ ہوا کہ تین سال میں KP قرض فری صوبہ بن گیا، تمام غیر ترقیاتی اخراجات اور بڑے بڑے فنکشنز کے ہوٹلوں میں انعقاد پر پابندی لگائی، کرپشن کو ختم کیا، اس بچت سے اتنا پیسہ ملا کہ میٹرک تک تمام طلبہ کو مفت کتابیں مہیا کی گئیں۔ کیا وجہ ہے کہ آج وہی صوبہ قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے؟۔

فارم 45 کو 47 کر دیں یا فارم 47 کو 45 یا ان سب کے حامل ہوں، سود کا خاتمہ اور نظام زکوٰۃ نہ ان کی ترجیحات میں ہیں اور نہ کوئی ’’اسٹڈی‘‘ یا منصوبہ۔ PDM 1 کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی سر براہی میں، پی ڈی ایم کے دور حکمرانی میں شرح سود 17 فی صد سے بڑھ کر 21 اور 22.7 فی صد ہو گئی تھی۔ دیگر جہتیں مثلاً صنعت، درآمدات و برآمدات اور دوسرے معاشی پیراؤں کی اہمیت اپنی جگہ پر لیکن سود جیسی لعنت اور اللہ کی ناراضی کو مول لیتے ہوئے اسلام کی نام لیوا مملکت اور اس کے باشندے کیسے پھل پھول سکتے ہیں، اسلامی نظام کی برکات نہ صرف معاشی طور سے مملکت کو مستحکم اور باشندوں کو آسودہ کر سکتی ہے بلکہ دہشت گردی اور بے اطمینانی کا خاتمہ کر کے معاشرہ کو امن و آشتی کا گہوارہ بنا سکتی ہیں، شاید من حیث القوم ہمیں یقین نہیں جب کہ قرآن کریم تو ہمیں ان ہی باتوں کا یقین دلاتا ہے۔

سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان میں کہ پاکستان کے مطابق نے والے اور اس کی گئی کے لیے

پڑھیں:

یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری

دبئی: یو اے ای ویزا آن ارائیول سے متعلق متحدہ عرب امارات نے نئی شرائط، فیس اور درخواست کے طریقہ کار کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ نئی ہدایات کے تحت مخصوص ممالک کے اہل شہری امارات پہنچنے پر 14 یا 60 روزہ ویزا حاصل کر سکیں گے، تاہم اس کے لیے مقررہ شرائط پر پورا اترنا لازمی ہوگا۔

دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق بھارت، انڈونیشیا، ویتنام، تھائی لینڈ، فلپائن، کینیا اور جنوبی افریقہ کے شہری، اور ان کے ہمراہ سفر کرنے والے اہل خانہ، اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

حکام کے مطابق درخواست گزار کے پاس کم از کم چھ ماہ کے لیے کارآمد پاسپورٹ، سفید پس منظر والی حالیہ رنگین تصویر اور امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، جنوبی کوریا یا سنگاپور کی جانب سے جاری کردہ قابل قبول رہائشی پرمٹ یا ویزا ہونا ضروری ہے۔

اعلامیے کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کو صرف ایک مرتبہ مزید 14 دن کے لیے توسیع دی جا سکتی ہے، جبکہ 60 روزہ ویزا میں توسیع کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔

جی ڈی آر ایف اے نے بتایا کہ ویزا کے لیے درخواست اس کی سرکاری ویب سائٹ یا اسمارٹ ایپ کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہے۔ درخواست کی منظوری کے بعد ویزا رجسٹرڈ ای میل پر ارسال کیا جائے گا، جبکہ عام طور پر درخواستوں پر 48 گھنٹوں کے اندر کارروائی مکمل کر لی جاتی ہے۔

فیس کے حوالے سے جاری تفصیلات کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کی فیس 172.50 درہم جبکہ 60 روزہ ویزا کی فیس 422.50 درہم مقرر کی گئی ہے۔

جی ڈی آر ایف اے کا کہنا ہے کہ اس سہولت کا مقصد بین الاقوامی مسافروں کے لیے سفری عمل کو مزید آسان بنانا، سیاحت کو فروغ دینا اور زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو متحدہ عرب امارات کی جانب راغب کرنا ہے۔

ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران اس پروگرام کے تحت 73 ہزار 551 ویزے جاری کیے جا چکے ہیں، جو اس سہولت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔

اہم وضاحت: جاری کردہ شرائط میں پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز شامل نہیں ہیں۔ یہ سہولت صرف ان مخصوص ممالک کے شہریوں کے لیے ہے جن کا جی ڈی آر ایف اے نے اعلان کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مہنگے
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف