کراچی، کاٹھور پل اور نیٹی جیٹی پل پر خوفناک ٹریفک حادثات، دو نوجوان جاں بحق، دو زخمی
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد کے دو مختلف مقامات، کاٹھور پل اور نیٹی جیٹی پل پر پیش آنے والے افسوسناک ٹریفک حادثات میں دو نوجوان جاں بحق جبکہ دو شدید زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق پہلا حادثہ گڈاپ سٹی کے علاقے کاٹھور انصاری پل کے قریب پیش آیا، جہاں موٹرسائیکل سوار 30 سالہ انور ولد امام بخش ایک ڈمپر کی ٹکر سے جاں بحق ہو گیا۔
متوفی ملیر میمن گوٹھ کا رہائشی اور موٹرسائیکل مکینک تھا، جو واقعے کے وقت اپنی دکان بند کر کے گھر جا رہا تھا۔
ایدھی ایمبولینس کے ذریعے انور کی لاش سپرہائی وے پر واقع بقائی ٹول پلازہ اسپتال منتقل کی گئی۔
ایس ایچ او گڈاپ سٹی انسپکٹر سرفراز کے مطابق تحقیقات جاری ہیں کہ متوفی ڈمپر کی ٹکر سے جاں بحق ہوا یا موٹرسائیکل سلپ ہونے کے باعث حادثہ پیش آیا۔
حادثے کے بعد ڈمپر ڈرائیور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
دوسرا حادثہ جیکسن تھانے کی حدود میں کیماڑی کے نیٹی جیٹی پل کے قریب پیش آیا، جہاں نامعلوم گاڑی نے دو موٹرسائیکلوں کو ٹکر مار دی۔
حادثے میں ایک نوجوان، 17 سالہ عبداللہ موقع پر جاں بحق ہو گیا، جبکہ دو دیگر نوجوان، 19 سالہ زوہیب اور 20 سالہ امان اللہ زخمی ہو گئے۔
جاں بحق اور زخمیوں کو چھیپا ایمبولینسوں کے ذریعے سول اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔