سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے رونا دھونا کیا اور نہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلائے، مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
دیپالپور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 اکتوبر2025ء) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ صوبے میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے رونا دھونا کیا اور نہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلائے۔دیپالپور میں سیلاب متاثرین میں فلڈ کارڈ اور چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کے دوران مریم نواز نے کہا کہ متاثرین کی بحالی کا آغاز ہوگیا ہے، اگر ہماری تیاری نہ ہوتی تو سیلاب سے نقصان کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا تھا،پنجاب میں بدترین سیلاب کا سامنا کرنا پڑا، دریاؤں کے بپھرنے سے اطراف کے علاقے زیرآب آئے، میں نے سیلاب کے دوران قیامت خیز مناظر دیکھے، سیلاب کے دوران بہت تکلیف دہ مناظر دیکھے، سیلاب سے گھر، مویشی اور فصلیں متاثر ہوئیں۔
انہوںنے کہاکہ سیلاب سے کئی جانیں گئیں، گھروں کو نقصان ہوا، سیلاب کاپانی اترنے کے بعد متاثرین کی بحالی کا کام شروع ہوگیا، شکر ہے متاثرین کی اپنے گھروں کو واپسی کا سفر شروع ہوگیا۔(جاری ہے)
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ سیلاب آتا ہے تو حکومتیں روتی دھوتی ہیں لیکن میں نے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے رونا دھونا نہیں کیا اور نہ ہی کسی کے آگے ہاتھ پھیلائے، میں نے پنجاب کے عوام کی عزت نفس کا خیال رکھا۔
انہوںنے کہا کہ جب تک آپ کی بہن وزیراعلیٰ ہے کوئی میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا اور دکھ درد میں عوام کا ساتھ دینا نواز شریف اور شہباز شریف سے سیکھا۔انہوںنے کہاکہ جو پیسے عوام کے استعمال میں نہیں آئے وہ کس کام کے ہیں، پنجاب حکومت نے متاثرین کے لیے ریلیف کا کام اپنے بجٹ سے کیا، میں نے سوچا پہلے پنجاب کے وسائل عوام کے سامنے رکھوں۔انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی بحالی اور امداد ان کا حق ہے، کوئی احسان نہیں، سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے 70 فیصد سروے مکمل ہوچکا ہے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سیلاب متاثرین کی بحالی نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔