غزہ جنگ بندی کے مقاصد حاصل نہ ہوئے تو اسرائیل پر پابندی لگا سکتے ہیں، یورپی یونین
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
یاد رہے کہ جنگ بندی سے پہلے یورپی یونین نے اسرائیل کے چند وزراء کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے، تجارتی تعلقات میں کٹوتی اور مالی پابندیوں کی تجاویز پیش کی تھیں، تاہم امریکی ثالثی میں ہونیوالی جنگ بندی کے باعث ان پر عمل فی الحال روک دیا۔ اسلام ٹائمز۔ یورپی یونین نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگرچہ غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ نافذ ہوچکا، لیکن ان کے خلاف پابندیوں کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان خیالات کا اظہار یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کایا کالس نے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کیا۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل پر پابندیوں کا امکان اب بھی برقرار ہے اور اس وقت تک رہے گا، جب تک غزہ کے زمینی حقائق میں قطعی اور مستقل بہتری ثابت نہ ہو جائے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ نے کہا کہ جنگ بندی نے صورتحال ضرور بدلی ہے، تاہم اگر غزہ میں امداد کی فراہمی اور سنگین صورت حال میں بہتری نہ آئی تو اسرائیل پابندیاں لگ سکتی ہیں۔
یورپی یونین نے اسرائیل پر واضح کیا کہ جنگ بندی کے حقیقی مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے غزہ میں انسانی امداد میں اضافہ، فلسطینی ریونیو کی واپسی، صحافیوں کو رپورٹنگ کی اجازت، این جی اوز کی رجسٹریشن اور کام کی آزادی جیسے اقدامات کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ یاد رہے کہ جنگ بندی سے پہلے یورپی یونین نے اسرائیل کے چند وزراء کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے، تجارتی تعلقات میں کٹوتی اور مالی پابندیوں کی تجاویز پیش کی تھیں، تاہم امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے باعث ان پر عمل فی الحال روک دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یورپی یونین نے اسرائیل جنگ بندی کے کہ جنگ بندی
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔