data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بیجنگ (اے پی پی) چین نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔شنہوا نیوز کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے پیر کو کہا کہ چین پاکستان اور افغانستان کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے کا خیرمقدم کرتا ہے۔چینی وزارت خارجہ کیترجمان نے روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران جنگ بندی کے معاہدے پر اپنے تبصرے میں کہا کہ پاکستان اور افغانستان دونوں چین کے روایتی دوست ہمسایہ اور ایک دوسرے کے پڑوسی ہیں جنہیں دور نہیں کیا جا سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ چین دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کا خیرمقدم کرتا ہے اور متعلقہ ممالک کے تعاون کو سراہتا ہے،چین پاکستان اور افغانستان کے درمیان اپنے اختلافات کو دور کرنے، ایک جامع اور دیرپا جنگ بندی کے حصول اور دونوں ممالک اور خطے کے امن و استحکام کے مشترکہ تحفظ کے لیے مسلسل بات چیت اور مشاورت کی مخلصانہ امید کرتا ہے اور اس کی حمایت کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ چین پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو بہتر بنانے اور آگے بڑھانے میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے عالمی برادری کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

خبر ایجنسی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے معاہدے کا خیرمقدم کرتا ہے کہا کہ

پڑھیں:

نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹو 

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ: درست ویزا، ٹکٹ اور سفری دستاویزات والے مسافر کو آف لوڈ کرنا غیر قانونی قرار

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی