پاکستان انویسٹر فورم جدہ کی ڈیجٹل ریجسٹریشن مہم کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
پاکستان انویسٹر فورم جدہ کی ڈیجٹل ریجسٹریشن مہم کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 21 October, 2025 سب نیوز
جدہ (خالد نواز چیمہ)
پاکستان قونصلیٹ جدہ کے کمرشل قونصلر اور صدر پاکستان انویسٹر فورم جدہ چوہدری محمد شفقت محمود نے جدہ اور مغربی ریجن میں مقیم تمام پاکستانی کاروباری شخصیات، صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی خدمات کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں پاکستانی بزنس کمیونٹی نے ہمیشہ ملک و قوم کا نام روشن کیا ہے اور معیشت کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان انویسٹر فورم جدہ (PIFJ) کے انتخابات قریب آ چکے ہیں، اس لیے تمام ارکان اور نئے سرمایہ کار حضرات اپنی ریجسٹریشن جلد از جلد مکمل کریں۔
ریجسٹریشن کے لیے پاکستان قونصلیٹ جدہ کے کمرشل سیکشن کی جانب سے ایک جدید ڈیجٹل سسٹم متعارف کروایا گیا ہے، جو قونصل جنرل جناب خالد مجید صاحب کی براہ راست رہنمائی اور سرپرستی میں تشکیل دیا گیا ہے۔
رجسٹریشن فارم 30 اکتوبر 2025 تک ویب سائٹ
???? Pifjmembership.
پر دستیاب ہے، جہاں تمام بزنس پرسنز اپنی معلومات درج کر کے بآسانی ممبرشپ حاصل کر سکتے ہیں۔
پاکستان انویسٹر فورم جدہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو سعودی عرب میں مقیم پاکستانی سرمایہ کاروں کو متحد کرتا ہے، ان کے کاروباری مفادات کا تحفظ کرتا ہے اور پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے میں معاون بنتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نومبر کے دوسرے ہفتے میں صدر اور جنرل سیکرٹری کے عہدوں کے لیے نامزدگیاں قبول کی جائیں گی، لہٰذا خواہشمند امیدوار اپنے نام 6 نومبر 2025 تک جمع کروائیں۔
انہوں نے تمام پاکستانی انویسٹرز سے اپیل کی کہ وہ اپنی شمولیت یقینی بنا کر فورم کو مضبوط اور فعال بنائیں تاکہ پاکستانی کاروباری برادری کی آواز مؤثر انداز میں سنی جا سکے۔
آخر میں انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ تمام فراہم کردہ ڈیٹا مکمل طور پر محفوظ رکھا جائے گا اور یہ صرف کمرشل سیکشن پاکستان قونصلیٹ جدہ کی تحویل میں رہے گا
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکمیٹیاں نہ بھر پانے پر بیروزگار باپ نے دو کمسن بیٹیاں ذبح کر ڈالیں کمیٹیاں نہ بھر پانے پر بیروزگار باپ نے دو کمسن بیٹیاں ذبح کر ڈالیں تحریک تحفظ آئین پاکستان کےنام سے اتحاد رجسٹریشن سے متعلقہ جماعتوں کا اظہار لاتعلقی شمشان گھاٹ سے متعلق کیس؛ اب تو کابینہ بھی نہیں ہے تو کیسے منظوری ملے گی، پشاور ہائیکورٹ علی امین گنڈا پور کے وارنٹ جاری، گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم خامنہ ای نے ٹرمپ کی جوہری مذاکرات کی پیشکش مسترد کر دی افغانستان سے سیز فائر میں وقت کی حد مقرر نہیں، خلاف ورزی نہ ہونے تک معاہدہ برقرار ہے: وزیر دفاعCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان انویسٹر فورم جدہ
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔