data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: سائبر کرائم کی نئی لہر نے پاکستان کے اراکین پارلیمان کو بھی اپنے نشانے پر لے لیا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آن لائن فراڈیے جدید حربے استعمال کرتے ہوئے واٹس ایپ اکاؤنٹس ہیک کر کے مختلف شخصیات کے دوستوں، رشتہ داروں اور ساتھیوں سے رقم مانگنے کے پیغامات بھیج رہے ہیں۔

تازہ واقعہ پارلیمانی سیکرٹری برائے سائنس و ٹیکنالوجی ڈاکٹر نکہت شکیل کے ساتھ پیش آیا، جن کا واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک کر کے نامعلوم ہیکرز نے مالی مدد کے جعلی پیغامات ان کے رابطہ نمبرز پر بھیجے۔

ڈاکٹر نکہت شکیل نے بتایا کہ انہیں واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک ہوئے ایک دن سے زائد گزر چکا ہے، مگر اب تک ان کا اکاؤنٹ ریکور نہیں ہوسکا۔ ہیکرز ان کے قریبی افراد سے مختلف نمبرز کے ذریعے رابطہ کر رہے ہیں اور خود کو مالی دشواری میں مبتلا ظاہر کر کے مدد طلب کر رہے ہیں۔

انہوں نے اس کارروائی کو ایک منظم سائبر فراڈ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی وارداتوں سے نہ صرف عوام بلکہ عوامی نمائندے بھی عدم تحفظ کا شکار ہو رہے ہیں۔

واقعے کے بعد پارلیمنٹ کے دیگر اراکین میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور متعدد اراکین نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ ڈاکٹر نکہت شکیل نے نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی کو باضابطہ درخواست جمع کرا دی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں تاکہ اس گروہ کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

ماہرینِ سائبر سیکورٹی کے مطابق اس قسم کے واقعات میں ہیکرز عام طور پر سم سوئپنگ، فشنگ لنکس یا جعلی تصدیقی کوڈز کے ذریعے صارفین کے اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔

ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک لنک پر کلک نہ کریں، دو مرحلہ جاتی (Two-Step Verification) تحفظ ضرور فعال کریں اور کسی بھی رقم کی درخواست پر متعلقہ شخص سے فون پر تصدیق کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: واٹس ایپ رہے ہیں

پڑھیں:

وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

مزید :

متعلقہ مضامین

  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری