وزیراعظم کے مشیر رانا ثناءکا تحریک انصاف کو انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر احتجاج کےلیے نومبر میں اسلا م آباد آئے گی تو جواب پہلے سے زیادہ سخت ہوگا،پی ٹی آئی کےلیے اس بار اٹک پل کراس کرنا بھی مشکل ہو۔
انہوں نے نجی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اگر احتجاج کےلیے نومبر میں اسلا م آباد آئے گی تو جواب سخت ہوگا، میرا خیال ہے کہ یہ اسلام آباد نہیں آسکیں گے اور انہیں ڈی چوک تک پہنچنے نہیں دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی احتجاج کو روکنے کےلیے طاقت کا استعمال ہوگا، آنسو گیس ،لاٹھی چارج ہی نہیں مﺅثررکاوٹیں بھی کھڑی کی جائیں گی، دو تین جگہیں ایسی ہیں اگر ان کو بند کردیا گیا تو ان کا اسلام آباد داخل ممکن نہیں ہوگا۔
حکومت ایسا طریقہ کار اپنائے گی جو شافی ہوگا، اس بار اٹک پل کراس کرنا بھی مشکل ہوگا۔لیکن بانی پی ٹی آئی تو انتظار کررہے کہ ملک میں انارکی اور افراتفری ، انتشار پھیلے۔
کے پی میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے وہاں سے آجائیں گے لیکن پنجاب میں روکا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب وزیراعظم نے مذاکرات کی دعوت دی اور کہا کہ آئیں میثاق معیشت کرتے ہیں، ان کو چاہیے وزیراعظم کے ساتھ بیٹھ جائیں۔
ویب ڈیسک
Faiz alam babar
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔