18 لاکھ ایکڑ سے زاید رقبے پر مینگروز کے درخت لگادیے گئے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)کراچی میں آلودگی کے خلاف ایک اہم ماحولیاتی مشن جاری ہے جس کے تحت انڈس ڈیلٹا کے علاقے حجامڑو کریک میں مینگروز کے وسیع جنگلات آباد کیے جا چکے ہیں۔ شہر قائد سے تقریباً 200 کلومیٹر دور واقع اس علاقے میں 18 لاکھ ایکڑ سے زاید رقبے پر مینگروز کے درخت لگائے گئے ہیں، جو نہ صرف آلودگی کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ہیں بلکہ یہ کاربن جذب کرنے کی انتہائی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں، جو عام پودوں کے مقابلے 5 گنا زیادہ ہے۔ اس جنگل کی بحالی سے فضا میں موجود نقصان دہ کاربن کی مقدار میں نمایاں کمی آئے گی اور ماحولیاتی توازن قائم کرنے میں مدد ملے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مینگروز کے یہ درخت سمندر کو آگے بڑھنے سے روکتے ہیں، ساحلی پٹی کو کٹاؤ سے محفوظ رکھتے ہیں اور شدید سمندری طوفانوں کے دوران ساحلی آبادیوں کے تحفظ کیلیے قدرتی ڈھال کا کردار ادا کرتے ہیں۔سندھ فاریسٹ ڈپارٹمنٹ کے نمائندے رفیع الحق کے مطابق، حجامڑو کریک دنیا کا سب سے بڑا مینگرو ریسٹوریشن پروجیکٹ ہے، جہاں کاربن کریڈیٹ جنریٹ ہوتے ہیں، جو عالمی ماحولیاتی منڈی میں پاکستان کیلیے ایک فائدہ مند مالی ذریعہ ہے۔ ڈی ایف او کوسٹل رائٹ بینک کے شہزاد صادق نے مزید بتایا کہ مینگروز کی موجودگی سے ماحولیاتی فوائد کے ساتھ ساتھ مقامی معیشت کو بھی فروغ ملے گا، کیونکہ اسی علاقے میں ’’سوا‘‘ مچھلی کی پیداوار بڑی مقدار میں ہوتی ہے، جو پاکستان کیلیے قیمتی زرمبادلہ کا ذریعہ ہے۔ دریائے سندھ کا پانی ڈیلٹا میں جاری رہنا مینگروز کی بقا کیلیے ناگزیر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مینگروز کے
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان