ٹی ایم سی ناظم آباد، پوزیشن ہولڈر طلبہ میں لیپ ٹاپ و اسناد تقسیم
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ٹاؤن میونسپل کارپوریشن ناظم آباد کی جانب سے راشد منہاس اسکول میں پوزیشن ہولڈر طلبہ و طالبات کے اعزاز میں تقریب تقسیم انعامات کا انعقاد ہوا، پروقار تقریب میں سالانہ امتحانات میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے پوزیشن ہولڈر طلبہ و طالبات کو لیپ ٹاپس، شیلڈز، سرٹیفکیٹس اور اسناد سے نوازا گیا۔ تقریب کی صدارت امیر جماعت اسلامی ضلع وسطی سید واجیہ حسن نے کی جبکہ چیئرمین ناظم آباد ٹاؤن سید محمد مظفر، وائس چیئرمین محمد نعمان صدیقی، ڈائریکٹر ایڈمن ظہیر احمد، ڈائریکٹر ایجوکیشن نوید حبیب، اینٹی انکروچمنٹ کے راشد کمال اور سینی ٹیشن کے عارف الدین بھی اس موقع پر موجود تھے۔ امیر جماعت اسلامی ضلع وسطی سید واجیہ حسن نے اپنے جذباتی خطاب میں کہا کہ علم ہی وہ روشنی ہے جو اندھیروں کو مٹا دیتی ہے۔ طلبہ و طالبات کو چاہیے کہ وہ تعلیم کو صرف کامیابی کا ذریعہ نہیں بلکہ خدمت خلق اور ملک کی ترقی کا ہتھیار بنائیں، یہ سارے لیپ ٹاپ جو آج یہاں تقسیم ہو رہے ہیں، ان شاء اللہ آئندہ اس سے کئی گنا زیادہ بچوں کو دیے جائیں گے۔ آپ سب بچے وعدہ کریں کہ آپ دل لگا کر پڑھیں گے، اپنے اساتذہ اور اسکول کا نام روشن کریں گے۔ ان شاء اللہ جب آپ محنت کریں گے تو نہ صرف آپ کے گھروں میں خوشحالی آئے گی بلکہ یہ ملک بھی ترقی کرے گا۔ چیئرمین ناظم آباد ٹاؤن سید محمد مظفر نے کہاآج کے یہ ہونہار طلبہ ہمارا فخر ہیں، یہ بچے پاکستان کا روشن مستقبل ہیں اور ہمیں ان کی حوصلہ افزائی کیلیے ہر ممکن تعاون جاری رکھنا ہوگا۔ ناظم آباد ٹاؤن کی انتظامیہ تعلیم کے فروغ کیلیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے تاکہ ہمارے ادارے معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ باصلاحیت طلبہ کو بہتر مواقع فراہم کرسکیں۔ وائس چیئرمین محمد نعمان صدیقی نے کہا کہ نوجوان نسل کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ آج تقسیم کیے گئے لیپ ٹاپس کا مقصد طلبہ کو ڈیجیٹل دنیا سے ہم آہنگ کرنا ہے تاکہ وہ علم و تحقیق کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھار سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔