پاکستانی روپے پر دباؤ مسلسل بڑھنے لگا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(کامرس رپورٹر)پاکستانی روپے پر دباؤ مسلسل بڑھنے لگا جس کی بڑی وجہ ڈالر کی طلب میں اضافہ اور کیش ڈالرز کی شدید کمی ہے اور اس کی وجہ سے ایکسچینج کمپنیاں مشکلات سے دوچار ہیں۔ کرنسی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خاص طور پر ملک بھر میں تباہ کن سیلاب جیسے غیر متوقع واقعات کے بعد روپے کو سہارا دینے کے لیے کیے گئے حکومتی کریک ڈاؤن اور سخت نگرانی کے بعد روپے میں قدرے استحکام دیکھا گیا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق یہ رجحان زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکتا اگر طلب رسد پر غالب رہی۔کرنسی ڈیلرز کے مطابق بیشتر ایکسچینج کمپنیاں امریکی ڈالر کی شدید کمی کا شکار ہیں، جس سے ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ایک ڈیلر کا کہنا تھاکہ اسمگلنگ پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے لیکن اب ذخیرہ اندوزی کے امکانات نمایاں ہو رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ غیر قانونی کرنسی آپریٹرز کی سرگرمیوں میں اضافہ بھی صورتحال کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔ کرنسی ماہرین نے خبردار کیا کہ جب بنیادی عوامل کسی کرنسی کے خلاف ہوں تو کوئی قوت مارکیٹ کو نہیں ہرا سکتی، ان کے مطابق روپے کو انتظامی اقدامات کے ذریعے مصنوعی طور پر مضبوط بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں اوپن مارکیٹ میں حقیقی کیش لین دین سست پڑ گیا ہے، انہوں نے کہا کہ ایکسچینج کمپنیاں بمشکل ہی فارن ایکسچینج کیش رکھ پا رہی ہیں۔اس صورتحال کا منفی اثر ترسیلات زر پر بھی متوقع ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس سے دوبارہ حوالہ ہنڈی اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے لین دین کو فروغ مل سکتا ہے جو زرمبادلہ کی غیر رسمی منڈیوں کو تقویت دیتے ہیں۔دوسری جانب برآمدکنندگان اپنی آمدنی روک کر بیٹھے ہیں جس سے مارکیٹ میں رسد مزید سکڑ گئی ہے اور ایک غیر یقینی سکون کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے، یعنی بظاہر استحکام لیکن درحقیقت سپلائی تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر زرمبادلہ کی آمد میں تعطل برقرار رہا تو روپے پر دباؤ میں شدت آ سکتی ہے جس کے نتیجے میں اچانک اور بڑی گراوٹ کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گیا ہے
پڑھیں:
نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
فرحت اشتیاق کے مقبول ناول ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ پر مبنی پاکستان کی پہلی نیٹفلکس اوریجنل سیریز کی ریلیز سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آگئی ہے۔
’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ پہلی بار 2009 میں خواتین ڈائجسٹ میں قسط وار شائع ہوا تھا، جس کے بعد 2013 میں اسے کتابی صورت میں بھی شائع کیا گیا۔ تازہ رپورٹس کے مطابق اس پر مبنی نئی سیریز کو 2026 کے اختتام تک نیٹ فلکس پر ریلیز کیا جائے گا۔
اگرچہ اس سے قبل کئی کامیاب پاکستانی ڈرامے ٹی وی پر نشر ہونے کے بعد نیٹ فلکس پر دستیاب کیے جا چکے ہیں، تاہم ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ہو گی، جسے ہم ٹی وی اور نیٹ فلکس کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔
سیریز کی کاسٹ میں ماہرہ خان، فواد خان، بلال اشرف، حمزہ علی عباسی، ہانیہ عامر، اقرا عزیز، صنم سعید، احد رضا میر، نادیہ خان اور دیگر معروف فنکار شامل ہیں، جبکہ اس کی ہدایت کاری اور پروڈکشن مومنہ درید نے کی ہے۔
یہ سیریز ابتدائی طور پر 2025 میں ریلیز ہونا تھی، تاہم مقررہ وقت پر اس کی نمائش نہ ہو سکی۔ اس کے بعد طویل عرصے تک نہ کاسٹ اور نہ ہی پروڈیوسرز کی جانب سے کوئی باضابطہ اپ ڈیٹ سامنے آئی، جس کے باعث یہ قیاس آرائیاں بھی ہونے لگیں کہ شاید منصوبہ ملتوی یا منسوخ کر دیا گیا ہے۔
اب تازہ اطلاعات کے مطابق مومنہ درید اس وقت سیریز کی فائنل ایڈیٹنگ کی نگرانی کر رہی ہیں، جبکہ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں کاسٹ اس کی تشہیری مہم کا آغاز بھی کرے گی۔
دوسری جانب، کئی سال کی تاخیر کے باعث پاکستانی ناظرین اب بھی ریلیز کی خبروں پر مکمل یقین کرنے کو تیار نہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک مداح نے لکھا، ’’جب تک اقساط ریلیز نہیں ہوتیں، میں یقین نہیں کروں گا۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’مجھے اب بھی اس خبر پر اعتماد نہیں۔‘‘