data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور چیئرمین سنی تحریک علامہ محمد ثروت اعجاز قادری کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات میں مذہبی ہم آہنگی اور باہمی رواداری کے فروغ پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔

اہم ملاقات میں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن اور صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ بھی شریک تھے، جنہوں نے مذہبی طبقات کے مثبت کردار کو سراہا۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ ملک میں مدارس یا مساجد کی بندش کے حوالے سے پھیلایا جانے والا پروپیگنڈا بے بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مدرسے یا مسجد کو بند کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، دین اسلام امن، اخوت اور محبت کا پیغام دیتا ہے، اس میں تشدد یا شرانگیزی کی کوئی گنجائش نہیں۔

محسن نقوی نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور اس موقع پر تمام مکاتبِ فکر کو ایک پیج پر آ کر ملک کے استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر شہری کو اظہارِ رائے اور احتجاج کا حق حاصل ہے، لیکن ملک کے مفاد میں وحدت اور نظم کو برقرار رکھنا سب کی ذمہ داری ہے۔

چیئرمین سنی تحریک علامہ ثروت اعجاز قادری نے وزیر داخلہ کو یقین دلایا کہ ان کی جماعت مذہبی ہم آہنگی اور امن و استحکام کے لیے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ علما ہمیشہ امن، بھائی چارے اور برداشت کے پیغامبر رہے ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔

ملاقات کے دوران علما و مشائخ کے مثبت کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور اتفاق کیا گیا کہ کسی بھی سازش یا غلط فہمی کے ذریعے مذہبی انتشار پیدا کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا جائے گا۔ شرکا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام طبقات میں مکالمے اور اعتماد کی فضا قائم کرنا ہی پاکستان کے پرامن مستقبل کی ضمانت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وزیر داخلہ محسن نقوی

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان

پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری