سعودی عرب کی جنگلاتی آگ کے انتظام سے متعلق استنبول میں بین الاقوامی اجلاسوں میں شرکت
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
سعودی عرب کے نیشنل سینٹر فار ویجیٹیشن کور ڈویلپمنٹ اینڈ کمبیٹنگ ڈیزرٹیفکیشن (NCVC) نے ترکی کے شہر استنبول میں منعقدہ بین الاقوامی اجلاس کنٹری لیڈ انیشی ایٹو آن فاریسٹ فائر پریپیئرڈنس اینڈ انوویٹو ٹیکنالوجیز (CLI-FFPIT) میں شرکت کی۔
یہ اجلاس اقوام متحدہ کے فاریسٹ فورم سیکریٹریٹ کے تعاون سے 20 سے 22 اکتوبر 2025 تک منعقد ہوا۔ یہ 2 سالہ بین الاقوامی منصوبہ جنگلاتی آگ سے نمٹنے کی تیاری، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور پائیدار جنگلاتی انتظام کے لیے تجربات اور علم کے تبادلے کو فروغ دینے کا مقصد رکھتا ہے۔
اجلاس میں اعلیٰ سطح مکالمے اور تھیمیٹک سیشنز شامل تھے جن میں عالمی تجربات، بہترین طریقہ کار اور جنگلاتی آگ کے انتظام سے متعلق عملی اقدامات کا جائزہ پیش کیا گیا۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب کو 12 لاکھ پاکستانیوں کی ضرورت: کن شعبوں میں نوکریوں کے مواقع موجود ہیں؟
سعودی وفد نے اجلاس کے افتتاحی سیشن میں شرکت کے ساتھ ساتھ مختلف ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کیں تاکہ سائنسی و تکنیکی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔
وفد نے جنگلاتی آگ سے نمٹنے کے جدید طریقوں کا بھی جائزہ لیا اور ان کے سعودی عرب میں مقامی اطلاق کے امکانات پر غور کیا۔ این سی وی سی کے نائب سی ای او ڈاکٹر مطلق ابو اثنین نے ترکی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب جنگلاتی آگ کے انتظام کے حوالے سے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے جنگلات کی بحالی، ماحولیاتی تحفظ اور پائیداری کے فروغ کے لیے سعودی عرب کی جاری کوششوں پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر ابو اثنین نے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی اور عالمی تعاون جنگلات کے تحفظ اور قدرتی وسائل کی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب میں حائل کے انار فارم سے ایکو ٹورازم کا فروغ، 70 ہزار سیاحوں کی آمد
این سی وی سی کی شرکت سعودی وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہے، جس کا مقصد قدرتی وسائل کا تحفظ، سبز کور کی بحالی اور ماحولیاتی پائیداری کو فروغ دینا ہے۔
ادارہ جنگلاتی علاقوں میں پائیدار سبزہ کاری، ماحولیاتی تنوع کی بحالی اور غیر قانونی لکڑی کاٹنے کی روک تھام کے لیے مختلف منصوبے جاری رکھے ہوئے ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
استنبول جنگلاتی آگ سعودی عرب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: استنبول جنگلاتی آگ بین الاقوامی جنگلاتی آگ کے لیے
پڑھیں:
جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔
منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔
بی جے پی حکومت پر سنگین الزاماتمنگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔
میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائیسابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔
امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواستممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘ نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔
ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
مجھے سب کچھ معلوم ہےاپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔
نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔
مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار