غزہ جنگ بندی نفاذ توقعات سے آگے، سعودی ولی عہد کی ٹرمپ سے 18 نومبر کو ملاقات طے، اسٹیووٹکوف
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
واشنگٹن: امریکی خصوصی ایلچی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ امریکی وفد غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ کے حوالے سے توقعات سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “ہم جنگ سے امن تک منتقلی کے پیچیدہ اقدامات طے کر رہے ہیں”، جو علاقائی استحکام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے 18 نومبر کو وائٹ ہاؤس میں ملاقات طے ہو گئی ہے۔ یہ ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت میں محمد بن سلمان کا پہلا واشنگٹن دورہ ہوگا۔ ملاقات میں امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے، مصنوعی ذہانت، جوہری تعاون اور تجارت پر بات چیت متوقع ہے، جبکہ ممکنہ معاہدوں پر دستخط کی تقریب بھی منعقد ہو سکتی ہے۔
مئی 2025 میں ٹرمپ اور محمد بن سلمان کی مشرق وسطیٰ کے دورے کے دوران ہوئی ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اسرائیل غزہ جنگ بندی، ایران کے جوہری پروگرام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا تھا۔ نومبر کی آنے والی ملاقات میں معاشی تعاون، انٹیلی جنس اشتراک اور علاقائی سلامتی کے دیگر امور بھی زیر بحث آئیں گے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ملاقات سعودی امریکہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مشرق وسطیٰ میں استحکام لانے کی کوششوں کا حصہ ہے، خاص طور پر غزہ کی صورتحال اور ایران کے جوہری پروگرام کے تناظر میں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔